’یورینیم کی افزودگی سست مگر جاری‘

یورینیم کی افزودگی جوہری بم بنانے کا ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشنیورینیم کی افزودگی جوہری بم بنانے کا ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے پروگرام کی رفتار سست کر دی ہے مگر اس کے ممکنہ فوجی استعمال کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایران سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یورینیم افزودہ کرنے کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے ایران اب بھی یورنیم افزودہ کرنے کے لیے کافی تعداد میں سینٹری فیوجز لگا رہا ہے گو کہ وہ ان کی نگرانی کو بہتر بنانے پر متفق ہو گیا ہے۔

آئی اے ای اے کے ایک اعلٰی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ ایران نے یورنیم افزودہ کرنے کے اپنے منصوبہ کی رفتار کیوں کم کر دی ہے۔

افزودہ یورنیم کو جوہری بم بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے اس معاملے پر ایران سے معنی خیز مذاکرات سے نہیں ہوئے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ تمام معاملات پر اپنی پوزیش واضح کرے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ایران نطیز کی جوہری تنصیبات کی نگرانی بہتر کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا خیال ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتاہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بحری جہاز قبضے میں لے لیا ہے جو کہ شمالی کوریا سے غیر قانونی ہتھیار لے کر ایران جا رہا تھا۔

ایک سفارت کار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے شمالی کوریا پر پابندی عائد کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے حکام کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

برطانوی اخبار فائنینشل ٹائمز نے جمعہ کو خبر دی تھی کہ یہ جہاز چند ہفتوں قبل پکڑا گیا تھا۔

اس پر لدے ہوئے ہتھیاروں میں راکٹ سے چلنے والے گرنیڈ بھی شامل تھے۔

ان ہتھیاروں کو مشینی آلات ظاہر کیا جا رہا تھا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں لگانے والی کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاہم انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

شمالی کوریا کی طرف سے جوہری تجربے کے بعد اس سال بارہ جون کو اس پر اقوام متحدہ کی طرف سے مزید پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

اقوام متحدہ کی قرار داد نے جس کا مقصد شمالی کوریا کو ہتھیاروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو روکنا تھا اس کی بحری، فضائی اور زمینی راستوں سے ہونے والی تجارت کی سخت نگرانی پر زور دیا تھا۔