’کفار کی تباہی نہ مانگیں‘

سعودی عرب کے ایک سرکردہ عالم نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ’کفار‘ کی تباہی کی دعا مت مانگا کریں۔
عرب ممالک میں عام طور پر نمازہ جمعہ کے بعد اس طرح کی دعا دہرائی جاتی ہے۔ مخالفت کرنے والوں کے خیال ہے کہ اس سے نوجوان میں انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے۔
عالم شیخ سلمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دعا اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی دعا اس صورت میں جائز ہے جب مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ اس صورت میں ان لوگوں پر شیخ کی بات کا اثر کم ہوگا جو امریکہ یا اسرائیل کے مخالف ہیں۔
نماز کے بعد اس طرح کی دعا کو ناقدین مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ کس طرح، شاید نہ چاہتے ہوئے بھی، نوجوانوں کو انتہاپسندی کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کے عرب امور کے مبصر مغدی عبدالہادی نے کہا کہ عرب معاشرے میں اصلاحات کی ضرورت زیادہ فوری ہے جہاں اسلام کی تشریح دوسرے مذاہب کےخلاف بشمول مخالف اسلامی فرقے مثلاً شیعہ، نفرت پیدا کرتی ہے۔
مبصر نے کہا شیخ سلمان کی لوگ عزت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کیونکہ وہ علماء کی عالمی تنظیم کے رکن بھی ہیں ان کی اپیل کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہونا چاہیے۔
عبدالہادی نے کہا کہ شیخ سلمان کی بات ان لوگوں پر اثر نہیں کرے گی جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کو جائز سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک اصل مسئلہ اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ دنیا کا غیر منصفانہ نظام ہے جہاں مسلمانوں کو دوسروں نے دبایا ہوا ہے۔



