مشرف کی روزہ کشائی

شاہ عبداللہ نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد وطن واپسی میں بھی ضامن کے طور پر شامل تھے۔
،تصویر کا کیپشنشاہ عبداللہ نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد وطن واپسی میں بھی ضامن کے طور پر شامل تھے۔
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کی دعوت پر سعودی عرب میں ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پرویز مشرف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی خصوصی دعوت پر ان سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں پاکستان کے سیاسی حالات پر گفتگو متوقع ہے۔

پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے سیاسی افق پر گزشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی کی فضا ہے جہاں ایک طرف ملک کی اعلیٰ عدالت نے ان پر آئینی خلاف ورزیوں کے الزام کو بنیاد فراہم کر دی ہے اور دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ سابق صدر کے خلاف سنگین بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔

حکومت فوری طور پر سابق آرمی چیف کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

اس ساری گرما گرمی میں سابق صدر پرویز مشرف نے، پاکستان میں ان کے ایک قریبی دوست کے مطابق، وطن واپسی کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں اگر سابق صدر وطن واپس آتے ہیں تو اس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام شدید تر ہو جائے گا جو سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد بہت جلد حزب اختلاف کی جماعت کے قائد میاں نواز شریف یا ان کے ایلچی سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
،تصویر کا کیپشنذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد بہت جلد حزب اختلاف کی جماعت کے قائد میاں نواز شریف یا ان کے ایلچی سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔

پرویز مشرف کو پاکستان واپسی سے روکنے اور میاں نواز شریف کی جماعت کو ان کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے سے روکنے کے لیے حکمران جماعت کی جانب سے وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے پیر کے روز سعودی حکمران شاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

پرویز مشرف کی سعودی عرب آمد اسی ملاقات کا تسلسل بتائی جاتی ہے۔ سابق صدر اپنے عملے کے ہمراہ خصوصی طیارے پر لندن سے سعودی عرب پہنچے جو سعودی حکومت کی جانب سے انہیں لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے بعد بہت جلد حزب اختلاف کی جماعت کے قائد میاں نواز شریف یا ان کے ایلچی سعودی عرب کا دورہ کر سکتے گے۔

واضح رہے کہ انیس سو ننانوے میں بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں اقتدار سے معزولی کے بعد نواز شریف کو جیل سے رہائی دلوا کر سعودی عرب لے جانے میں سعودی شاہی خاندان نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

شاہ عبداللہ نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد وطن واپسی میں بھی ضامن کے طور پر شامل تھے۔