امریکہ نیٹو پر شک کرنا بند کرے‘

نیٹو کے نئے سربراہ مسٹر ریس میوسن نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ نیٹو ممالک کی افغانستان میں ذمہ داریوں کے بارے شکوک کرنا چھوڑ دے اور افغانستان میں کامیابی کے لیے نیٹو اور امریکہ کا اتحاد قائم رہنا بہت ضروری ہے۔

نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ کچھ حلقے یہ کہتے ہیں کہ کینیڈا اور یورپی ممالک افغانستان میں کامیابی کےلیے قربانیاں دینے سے کترا رہے ہیں۔ ’میں آپکو کو بتانا چاہتا ہوں کہ صورتحال ایسی نہیں ہیں۔ نیٹو کے بیس ممالک کے فوجی افغانستان میں برسرپیکار ہیں اور وہاں جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ افعانستان میں کامیابی کےلیے امریکہ اور نیٹو ممالک کا اتحاد قائم رہنا بہت ضروری ہے

نیٹو کےنئے سربراہ نےامریکہ کے پہلے دورے کے دوران ایک تحقیقاتی ادارے ایٹلانٹک کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جنگ ایک ضرورت ہے۔

نیٹو کے نئے سربراہ نے امریکہ کو یقین دلایا کہ نیٹو کے تمام ممالک افغانستان میں اپنی ذمہ داریاں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اسے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں چالیس فی صد افواج غیر امریکی ممالک سے ہیں اور بیس سے زیادہ ممالک کے فوجی لڑائی کے دوران ہلاک ہو ئے ہیں۔

نیٹو کے سربراہ کی تقریر ایک موقعے پر کی گئی جبکہ افغانستان میں نیٹو اور امریکہ افواج کے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید فوجی افغانستان نہ بھیجے گئے تو وہاں شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے نیٹو افواج کی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد نیٹو ممالک میں افغانستان میں جنگ کی حمایت کم ہوئی ہے۔

امریکہ ماضی میں نیٹو ممالک پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں زیادہ فوج بھیجیں۔ بعض یورپی ممالک افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کو لڑائی کے علاقوں میں بھیجنے سے انکاری ہیں اور وہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کے مطابق نیٹو کے نئے سربراہ کا دورہ امریکہ افغانستان میں اتحادی افواج کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔۔

نیٹو کے سربراہ افغانستان میں برسر پیکار جنرل میکرسٹل کی طرف سے مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کے بارے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔نیٹو کے سربراہ منگل کے روز امریکی صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ وہ امریکہ میں نیٹو ممالک کی نیت پر شک سے پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں فوجیوں کے حوالے نیٹو کے کچھ ممالک کی طرف سے اپنے فوجیوں کی کارروائیوں کو محدود رکھنے پر اصرار پر امریکی میں پائی جانے والی مایوس سے باخبر ہیں۔

نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ وہ ایسی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ کینیڈا اور یورپی ممالک افغانستان میں کامیابی کےلیے قربانیاں دینے سے کترا رہے ہیں۔ نیٹو کے سربراہ نے کہا افغان فوجیوں کی تربیت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت چالیس ملکوں کے ایک لاکھ فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان فوجیوں میں ساٹھ ہزار امریکی فوجی ہیں۔

افغانستان میں امریکی کمانڈر نے پچھلے ہفتے جرمنی میں نیٹو افواج کےسربراہ اور امریکی فوج کے سربراہ کو افغانستان میں مزید فوج بھیجنےکی باضابطہ درخواست کی ہے۔

جنرل میکرسٹل نے افغانستان کی صورتحال کے بارے میں اپنے حالیہ جائزے میں کہا تھا کہ اگر امریکہ اور نیٹو ممالک نے افغانستان میں مزید فوجی نہ بھیجے تو اتحادی افواج کو افغانستان میں شسکت کا سامنا ہو سکتا ہے۔