اقوام متحدہ کی غیر جانبداری پر سوال

افغانستان میں ناکام ہونے والے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخاب کے دوران اقوام متحدہ کے کردار پر انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدارتی امیدوار اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی آئدہ کی صدارتی انتخابات کے دوران غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔
افغان حکام کے علاوہ اقوام متحدہ بھی افغانستان میں غیر جاندارانہ انتخابات اور انتخابات کے دوران بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرانے کا ذمہ دار تھا۔
عبداللہ عبداللہ کی طرف سے یہ الزامات کائی اید کے نائب پیٹر گالبریتھ کی معطلی کے بعد لگائے گئے ہیں۔
پیٹر گالبریتھ نے کہا تھا کہ انتخابی بےقاعدگیوں کی تحقیقات کرنے پر حکام سے تنازع کی وجہ سے انہیں معطل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کائی آئدہ نے صدر حامد کرزئی کی حمایت کی ۔ اقوام متحدہ نے اس الزام کی تردید کی۔
عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ پیٹر گالبریتھ جیسا بہادر فرد ہی انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے آواز بلند کر سکتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخابی بے ضابطگیوں کے زیادہ تر الزامات صدر حامد کرزئی اور ان کے حامیوں کے خلاف لگایا ہے۔
یورپی یونین کے انتخابی مبصرین نے کہا کہ پندرہ لاکھ ووٹ اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بوگس تھے۔
انہوں نے کہا کہ گیارہ لاکھ ووٹ جو صدر حامد کرزئی کو ڈالے گئے مشکوک تھے۔
صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات جاری ہیں اور اس ضمن میں سرکاری اعلان اگلے ہفتے تک متوقع نہیں ہے۔
صدر حامد کرزئی کو دوسرے مرحلے کے اانتخاب کے لیے کہا جا سکتا ہے اور ڈاکٹر عبداللہ اس مرحلے میں عبداللہ عبد اللہ ان کے مدمقابل ہوں گے۔






















