حزب اللہ کی پُرسراریت

شیبا کے بھارتی کمانڈر
،تصویر کا کیپشنشیبا فارمز کی پہاڑیاں اقوامِ متحدہ کی بھارتی بٹالین کے علاقے میں آتی ہیں
    • مصنف, شا ہ زیب جیلانی
    • عہدہ, جنوبی لبنان

اسرائیل سے متصل لبنان کا جنوبی علاقہ صحافیوں اور غیر ملکیوں کے لیے ایک طرح کا نو اینٹری زون ہے۔ وہاں جانے کے لیے آپ کو لبنانی فوج اور انٹیلجنس ایجنسی کے الگ الگ اجازت نامے چاہیئے ہوتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ علاقہ ’ہائی رسک‘ ہے اس لیے وہاں جانے سے پہلے ادارے کے حکام سے سکیورٹی کلئیرنس لینی ضروری ہوتی ہے۔ اس پوری کاغذی کاروائی میں کچھ ہفتے لگ جاتے ہیں۔

سب کچھ کر کرا کے جب میں بلآخر وہاں پہنچا تو لوگوں سے بات چیت کرتے کرتے اسرائیلی حملوں کا تذکرہ شروع ہو گیا۔ مقامی لوگ شاید یہ سمجھتے ہوئے کہ غیر ملکی صحافیوں کو بڑی بڑی باتیں پتہ ہوتی ہیں، تقریباً سب ہی یہ جاننا چاہتے تھے کہ اگلی لڑائی کب ہوگی؟

تین سال پہلے کےاسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے دیہات ہبیری، فردیس اور کفرشبا کے بعد جب مجھے شیبا فارمز کے علاقے میں بھی یہ بات پھر سننے کو ملی تو میں نے وہاں کے مقامی شخص اُسامہ زواہری سے کہہ ڈالا: ’بھائی میں تو خود باہر سے پہلی دفعہ آپ کے علاقے میں آیا ہوں۔ آپ بتائیں جنگ کب ہوگی؟ حزب اللہ کے درمیان تو آپ رہتے ہیں!‘

مسٹر زواہری نے فوراً کہا: ’حزب اللہ یہاں کہاں؟ وہ تو دو ہزار چھ میں سیز فائر سمجھوتے کے تحت یہاں سے اپنا کام لپیٹ کر دریائے لطانی کے شمالی طرف پہاڑوں میں چلے گئے ہیں۔‘

شیبا فارمز کی پہاڑیاں اقوامِ متحدہ کی بھارتی بٹالین کے علاقے میں آتی ہیں۔ علاقہ خاصا منفرد ہے کیونکہ یہاں سے آپ بیک وقت تین مختلف علاقے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک طرف شام کی گولان کی پہاڑیاں جن پر اوپر اسرائیلی چیک پوسٹ قائم ہے۔ دوسری طرف چند قدم کے فاصلے پر اسرائیلی باڑ ہے جس کے اُس پار اس کی فو ج چکر لگاتی ہے۔ اور تیسری سمت میں لبنان کے پہاڑ۔

شیبا فارمز کی اس چیک پوسٹ کے انچارج میجر پی پی ایس چوہان ہیں جو کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ وہاں اقوامِ متحدہ کے دوسرے فوجیوں بات ہوئی تو پہلے پہل اکثر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اب یہاں نہیں۔لیکن پھرگپ شپ کے دوران لوگ بتانے لگے کہ حزب اللہ کہیں نہیں گئی۔ ایک شخص نے ہولے سے کان میں کہا: ’حزب اللہ والے آپ کو دکھائی نہیں دیں گے لیکن وہ ہر جگہ موجود ہیں۔‘

یہ ہے حزب اللہ کی پُرسراریت۔ حزب اللہ والے میڈیا سے کم ہی بات کرتے ہیں۔ اور خود کو جان بوجھ کر ایک معمہ بنائے رکھتے ہیں۔ ایک گوریلا گروپ کی حیثیت سے اس کی یہ بات کچھ سمجھ میں بھی آتی ہے۔ حزب اللہ کا مقصد اسرائیل کے خلاف جد و جہد ہے اور جنوبی لبنان کا علاقہ حزب اللہ کی فرنٹ لائن۔ حزب اللہ نے آخر بڑی محنت سےاس علاقے میں خفیہ سرنگیں بنائی ہیں اور ہتھاروں کے ذخیرے قائم کیئے ہیں جو وقت پڑنے پر اُس کے کام آتے ہیں۔

جنوبی لبنان کا ایک گاؤں
،تصویر کا کیپشنجنوبی لبنان کا علاقہ حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے

اسرائیل کے لیے شمالی طرف سے حزب اللہ ویسا ہی خطرہ ہے جیسا جنوب سے حماس۔ دونوں تنظیموں کو پیسہ اور ہتھیار مہیا کرنے کا الزام ایران اور شام پر عائد کیا جاتا ہے۔ امریکہ دونوں کو دہشتگرد کہتا ہے لیکن دونوں گروہ سیاسی پارٹیاں بھی ہیں جن کی جڑیں عوام میں ہیں۔

جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے سیزفائر کے بعد حزب اللہ نے بلاشبہ علاقے میں اپنی پروفائیل کم کر لی ہے لیکن اسے چھوڑا بلکل نہیں۔ اسرائیل کہتا ہے کہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت اقوام متحدہ کو اس علاقے کو حزب اللہ کے کتوشیہ راکٹوں وغیرہ سے پاک کرنا تھا۔

لیکن اقوامِ متحدہ کے فوجی نجی گفتگو میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ ایک ناممکن سا کام ہے۔ ’آخر آپ کہاں کہاں ہتھیار ڈھونڈتے پھریں گے؟ یہاں تو گھر گھر ہتھیار ہو سکتے ہیں؟‘ ایسے میں اقوامِ متحدہ نے علاقے میں کچھ اس طرح کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے: ’ہمیں ہتھیار نظر آئیں گے تو ہم کارروائی کریں گے۔ لیکن ہمیں میزائل وغیرہ نظر ہی نہیں آئیں گے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘

مبصرین کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی یہ اپروچ حقیقت پسندی پر مبنی ہے، ’ کیونکہ اگر حزب اللہ نہ چاہے تو اقوامِ متحدہ کے امن دستے یہاں پر نہیں مار سکتے!‘

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف آئے دن کے تُند و تیز بیانات کے باوجود حزب اللہ کی قیادت کو فی الحال کسی نئے تنازع کی جلدی نہیں۔ بظاہر علاقہ لبنانی فوجیوں اور اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے حوالے ہے لیکن علاقے میں اصل طاقت آج بھی حزب اللہ ہے۔ اس دوران گوریلا تنظیم اپنے آپ کو اور مضبوط اور مستحکم نہ کرے تو کیا کرے؟

دل میں تو آیا ہے کہ اسرائیل کے سائے تلے رہنے والے فکرمند لبنانوں کو اپنے اس تجزیے سے مستفید کروں کہ لگتا نہیں کہ یہاں جلد کوئی جنگ ہونے والی ہے۔ پھر خیال آیا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ ہے جہاں اسرائیل کے اڑوس پڑوس میں بیٹھے بٹھائے خونی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس خطے میں یہاں کی ہتھاروں سے لیس قوتوں کو خود بھی اکثر پتہ نہیں ہوتا کہ اگلا محاذ کب اور کہاں کھولنا پڑجائے؟