کرزئی آج جواب دیں گے: ہیلری کلنٹن

اقوامِ متحدہ کے اہکاروں نے کہا ہے کہ حامد کرزئی نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے آئین کا احترام کریں گے۔
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے اہکاروں نے کہا ہے کہ حامد کرزئی نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے آئین کا احترام کریں گے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی منگل کو اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ اس پینل کے دعوؤں کا جواب دیں گے جس کے مطابق وہ حالیہ صدارتی الیکشن جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔

ہیلری کلنٹن کا یہ بیان اس نگران ادارے کی طرف سے تصدیق کے بعد آیا ہے جس نے کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی اگست میں ہونے والے انتخابات میں ضروری تعداد میں جائز ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

افغانستان میں قواعد کے مطابق اگر کوئی صدارتی امیدوار کم از کم ووٹوں کی تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اسے پھر سے انتخابی عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ صدر کرزئی کو بھی ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اہکاروں نے کہا ہے کہ حامد کرزئی نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے آئین کا احترام کریں گے۔

ہیلری کلنٹن نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان صدر اپنے ’ارادے منگل کو ظاہر کریں گے۔ وہ منگل کو اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن (ای سی سی) کی تحقیقات کا جواب بھی دیں گے‘۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے اس بات کا اشارہ نہیں دیا کہ صدر کرزئی کا ردِ عمل کس طرح کا ہو گا۔ انھوں نے یہ ضرور کہا ’صورتِ حال جس طرف جا رہی ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔‘

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ افغانستان میں سیاسی بحران کے حل کا آغاز ’اگلے چند دن میں‘ ہونے کو ہے۔

پیر کو اپنی رپورٹ میں (ای سی سی) نے کہا تھا کہ اسے واضح اور ماننے کے قابل ثبوت ملے ہیں کہ افغانستان کے اگست میں ہونے والے انتخابات میں فراڈ کیا گیا۔

اس پینل نے کہا کہ دو سو بیس پولنگ سٹیشنوں کے بیلٹ کا شمار گنتی سے منہا کر دیا جائے۔

افغان آئین کے مطابق کمیشن کی رپورٹ اب الیکشن کمیشن کو جائے گی جسے خود صدر کرزئی نے قائم کیا تھا اور یہی کمیشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ دوبارہ انتخابات ہونے ہیں یا نہیں۔

اب سے پیشتر افغان صدر دوسری مرتبہ انتخابی عمل کے امکانات کو مسترد کر چکے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ وہ پہلے مرحلے ہی میں کافی تعداد میں ووٹ حاصل کر کے انتخاب جیت چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ جاری ہونے والے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر کرزئی نے اگست کے انتخابات میں پچپن فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے قریب تر حریف سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ تھے جنھیں اٹھائیس فیصد ووٹ پڑے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ پیر کو ای سی سی کی رپورٹ کے بعد سیکریٹری جنرل بانکی مون نے صدر کرزئی پر زور دیا تھا کہ وہ آئینی طریقِ کار کا احترام کریں اور دوبارہ انتخابی عمل میں حصہ لیں۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان صدر کو یقین ہے کہ ان سے انتخابی جیت چھینی جا رہی ہے اور انھوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ انتخابات کا دوسرا راؤنڈ نہیں ہونے دیں گے۔

لیکن واشنگٹن نے جو چالیس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے یا نہ بھیجنے کے بارے میں بحث میں مصروف ہے، اختتامِ ہفتہ پر خبردار کیا تھا کہ جب تک افغانستان میں سیاسی بحران کا کوئی حل نہیں نکل آتا تب تک نئے فوجی افغانستان میں تعینات نہیں کیے جائیں گے۔