کرزئی فتح سے محروم

افغانستان میں حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدارتی انتخاب میں دھاندلیوں کے الزامات کی تفتیش کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی پہلے مرحلے میں مقررہ پچاس فیصد ووٹ نہیں حاصل کر سکے تھے اور اب دوسرا مرحلہ ہونا چاہیے۔
تاہم صدر کرزئی اور افغانستان کے انتخابی کمیشن نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ نہیں کرایا جائے گا۔
اگست میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر کرزئی پچپن فیصد ووٹ حاصل کر سکے تھے جبکہ ان کے اہم حریف ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ ملے تھے۔
تاہم اب تفتیشی کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ چھان بین کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ در اصل صدر کرزئی کو پچاس فیصد سے کم ووٹ مل تھے اور دوبارہ گنتی کے بعد یہ لگ رہا ہے کہ ان کو ابتدائی نتائج کے نصف کے قریب ووٹ ملے تھے۔

















