افغانستان میں دوبارہ صدارتی انتخاب ہوگا

افغانستان صدر حامد کرزئی کی طرف سے مطلوبہ پچاس فیصد ووٹ نہ کرنے کی وجہ انتخاب کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔سات نومبر کو انتخاب کے دوسرے مرحلے میں صدر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق حامد کرزئی نے اٹھارہ اگست 2009 کو ہونے والےانتخابات میں صدرحامد کرزئی نے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیے تھے لیکن اقوم متحدہ کےحمایت یافتہ تحقیقاتی کمیشن نے وسیع پیمانے پرانتخابی دھاندلیوں کےالزامات کی تحقیق کے بعد ووٹوں کوایک بڑی تعداد کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس سے صدر حامدکرزئی کے ووٹوں کا تناسب پچاس فیصد سے کم ہوگیا۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں اور حامد کرزئی پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
افغانستان کے آئین کے مطابق جیتنے والے امیدوار کو پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے ۔دوسرے مرحلے میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔
.صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے کائی ایدی اور امریکی سینٹر جان کیری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیقاتی کمشین کی رپورٹ کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ جمہوریت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ حامد کرزئی نے اپنے ہم وطنوں سے کہا کہ وہ اس موقع سے فاہدہ اٹھا کر ملک میں جمہوریت کو مضبوط کریں اور انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
حامد کرزئی نے ابتدائی نتائج کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیےتھےاوران کےقریبی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ حاصل کیےتھے۔

















