افغانستان: دوسرا راؤنڈ دو ہفتوں میں

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان نے بی بی سی کو بتایا کہ ووٹنگ کے لیے حالات انتہائی دشوار ہوں گے لیکن انھیں یقین ہے کہ اس کام کے لیے درست منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان نے بی بی سی کو بتایا کہ ووٹنگ کے لیے حالات انتہائی دشوار ہوں گے لیکن انھیں یقین ہے کہ اس کام کے لیے درست منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات کا دوسرا دور دو ہفتے میں کرا لیا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی کائی ایدی کا یہ بیان ان مسلسل افواہیں کے درمیان آیا ہے کہ افغانستان کے دونوں صداررتی امیدوارحامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ آپس میں کوئی ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دوسرے دور کی ووٹنگ کی ضرورت نہ پڑے۔

کائی ایدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ووٹنگ کے لیے حالات انتہائی دشوار ہوں گے لیکن انھیں یقین ہے کہ اس کام کے لیے درست منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا صدر حامد کرزئی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شرکت پر راضی کرنا کافی مشکل تھا۔

اس سے قبل اس طرح کے اشارے تھے کہ صدر کرزئی اور ان کے حریف عبداللہ عبدللہ کے درمیان شرکتِ اقتدار کی ایک معاہدے پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ دو سو کے قریب اعلیٰ عہدوں پر فائز اہلکاروں کو جنھوں نے اگست میں ہونے والے افغان انتخابات میں دھاندلی میں ساز باز کی تھی، تبدیل کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کائی ایدا نے تسلیم کیا کہ کابل میں صدر کرزئی کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت میں کافی دشواریاں پیش آئیں کہ وہ سات نومبر کو انتخابات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت کریں۔

کائی ایدا نے کہا کہ وہ پولنگ سٹیشن جہاں دھاندلی ہوئی تھی انھیں دوبارہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ان افراد کو ووٹنگ کے عمل میں شریک کیا جائے گا جو دھاندلی میں شامل تھے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’کسی دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ ہم دو ہفتوں میں کوئی ڈرامائی تبدیلیاں نہیں لا سکتے۔‘