افغانستان میں معائنہ کار تبدیل ہوں گے

کرزائی عبدااللہ
،تصویر کا کیپشننومبر کے دوسرے دور کے انتخاب میں مقابلہ صرف حامد کرزائی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہوگا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اقوام متحدہ کے نصف سے زائد معائنہ کاروں کوتبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ دو سو اہلکار جو دھاندلی میں ملوث پائے گئے ہیں انہیں ہٹاکر دوسرے اہل کاروں کو مقرر کیا جائیگا تاکہ انتخابات شفاف اور درست ہو سکیں۔

افغانستان میں دوبارہ صدارتی انتخاب نومبر میں ہوں گے۔ اس اعلان سے پہلے حامد کرزئی نے اگست میں ہوئے انتخابات میں دھاندلی کی بات تسلیم کی تھی۔

نومبر میں دوسرے دور کے انتخاب میں مقابلہ صدر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہوگا۔

صحافیوں سے بات چیت میں بان کی مون نے کہا کہ اگست میں ہوئے انتخابات میں دھاندلی سے اقوام متحدہ نے کافی تکلیف دہ سبق سیکھے ہیں۔ ’ہمیں معلوم ہے کہ نئی نویلی جمہوریت اپنے ہی پیروں پر آسانی سے نہیں کھڑی ہو سکتی، یہاں تک کہ اقوام متحد کی طرف سے کافی مدد کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دوبارہ ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ تمام ضروری کوششیں کریگا۔ ’ہم کوشش کریں گے کہ اقوام متحدہ کے ان تمام اہلکاروں کو تبدیل کردیا جائے جنہوں نے اصول و ضوابط کی پابندی نہیں کی یا پھر دھاندلی میں ملوث پائےگئے ہیں۔‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنصدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں

مسٹر بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ پولنگ مراکز کا بھی دورہ کریں گے تاکہ دھاندلیوں کو روکا جا سکے۔

سیکریٹری جنرل نے اس الزام کو غلط بتایا کہ افغانستان کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ہوئی دھاندلیوں کو اقوام متحدہ نے دبانے کی کوشش کی ہے۔’ہم نے افغان حکومت اور سکیورٹی کونسل کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ دھاندلی ہوئی جسے ہم کو درست کرنا ہوگا۔ ہم چاہتے تھے کہ سبھی افغان شہریوں کو رائے دہی کا موقع ملے تاکہ وہ اپنے اگلے رہنما کو منتخب کر سکیں۔‘

ابتدائی نتائج کے مطابق اٹھارہ اگست 2009 کو ہونے والےانتخابات میں صدرحامد کرزئی نے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیے تھے لیکن اقوم متحدہ کےحمایت یافتہ تحقیقاتی کمیشن نے وسیع پیمانے پرانتخابی دھاندلیوں کےالزامات کی تحقیق کے بعد ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس سے صدر حامدکرزئی کے ووٹوں کا تناسب پچاس فیصد سے کم ہوگیا تھا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں اور حامد کرزئی پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

افغانستان کے آئین کے مطابق جیتنے والے امیدوار کو پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے ۔دوسرے مرحلے میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔