عبد اللہ عبداللہ انتخابات سے دستبردار

افغان صدر حامد کرزئی کے حریف اور حزب مخالف کے سربراہ ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ نے کہا ہےکہ وہ اگلے ہفتے منعقد کیے جانے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ان کے اس اقدام کے بعد اب حامد کرزئی واحد صدارتی امیدوار ہیں۔
ڈاکٹر عبد اللہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیاگیا اور موجودہ الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ان کے مطالبات نہیں مانے گئے۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے صدر حامد کرزئی کے لیے انتخابی دھاندلی کی وہ اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
ڈاکٹر عبد اللہ کا مطالبہ تھا کہ انتخابی کمیشن کے سربراہ کو برطرف کیا جائے۔ حامد کرزئی نے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کی دوبارہ گنتی کروائی گئی اور انتخابی شکایات کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی انتخاب کا دوسرا راؤنڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کی شرائط میں کئی پولنگ سٹیشنوں کو بند کرنے اور الیکشن کمیشن کے سربراہ عزیزاللہ لدھن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبات شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ کا موقف ہے کہ الیکشن کمشنر عزیز اللہ لدھن کا اعتبار ختم ہو چکا ہے اور انہوں نے انتخاب کے پہلے مرحلے میں بھی حامد کرزئی کی حمایت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ اب کسی معاہدے کے طے کیے جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں متحدہ حکومت قائم کیے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل امریکی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ کسی کے بھی بائیکاٹ کیے جانے کے باوجود انتخابی نتائج ان کے لیے قابل قبول ہوں گے۔





















