کیا طالبان ہاتھ ملائیں گے؟

- مصنف, اینڈریو نارتھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
افغانستان سے آج کل مغرب کو تواتر سے بری خبریں ہی مل رہی ہیں۔ جہاں غیر ملکی اور افغان فوجیوں کی ہلاکتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے وہیں افغان صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے الزامات کی بازگشت بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔
یہی نہیں بلکہ طالبان کے بیانات.میں خوشی کا عنصر دکھائی دینے لگا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ کچھ اندازوں کے مطابق اس وقت افغانستان کے چونتیس میں سے بیس صوبوں میں ’شیڈو‘ طالبان گورنر تعینات ہیں۔
انخلاء کا لفظ بار بار دہرایا جا رہا ہے لیکن ان حالات میں ایک برطانوی فوجی ایسا ہے جو مثبت سوچ رکھتا ہے۔ برطانوی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سرگریم لیمب کے مطابق ’آپ سنہ 2010 میں کچھ چیزیں دیکھیں گے جن سے واضح ہو جائے گا کہ کام صحیح سمت میں جا رہا ہے‘۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کماندار جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے برطانوی سپیشل فورسز کے سابق سربراہ جنرل لیمب سے درخواست کی ہے وہ ایک ایسی مہم شروع کریں جس کے تحت طالبان جنگجوؤں کو ساتھ ملانے پر راضی کیا جا سکے۔
جنرل لیمب نے دو برس قبل عراق میں ایک ایسی ہی مہم شروع کی تھی جس میں سابق مزاحمت کاروں کو مقامی لشکر میں شامل ہو کر اپنے سابق القاعدہ اتحادیوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہزاروں ڈالر دیے گئے تھے۔. اس پروگرام نے عراق میں پرتشدد کارروائیوں میں کمی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔
چنانچہ امید کی جا رہی ہے کہ افغانستان میں بھی اس قسم کا پروگرام کامیاب رہے گا۔ تاہم یہاں سنہ 2005 سے لے کر اب تک کئی بار طالبان سے مصالحت کی کوششیں کی گئی ہیں جو بار آور ثابت نہیں ہوئیں بلکہ کچھ معاملات میں ان کے تباہ کن نتائج نکلے۔ طالبان سے ایسی بات چیت کے نتیجے میں کچھ نچلے درجے کے طالبان کمانڈروں نے ہتھیار تو ڈالے لیکن ان کی حفاظت کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں موت کا منہ دیکھنا پڑا۔
افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان رہنما ملا عمر کو ایک مرتبہ لڑائی ختم کرنے کی صورت میں معافی کی پیشکش بھی کی اور اپنے متنازعہ انتخابات کے بعد پہلی نیوز کانفرنس میں حامد کرزئی نے ایک مرتبہ پھر طالبان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور انہیں ’بھائی‘ کہا۔ لیکن طالبان نے اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے افغان صدر کو ایک ’ کٹھ پتلی‘ قرار دیا۔
اب افغان صدر کے انتخاب اور ان کی حکومت کی ساکھ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اس مصالحتی عمل میں ایک اور رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ طالبان سے بات چیت کی پیشکش میں مختلف کیا ہے۔ جنرل لیمب کے مطابق ’اس قسم کے کام کا ایک معین وقت ہوتا ہے جو کبھی نکل بھی جاتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہاں ہمارے پاس ایک موقع ہے‘۔
.جنرل لیمب اپنے ’ری انٹگریشن‘ منصوبے کی تفصیلات دینے کو تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی ان پر کام ہو رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ’طالبان علاقوں میں مقامی کمیونٹی کی مدد اور انہیں روزگار کی فراہمی کے لیے کئی ملین ڈالر موجود ہیں۔ لیکن یہ رقم افراد کی بجائے کمیونٹی کو ملنی چاہیے‘۔
کچھ افغان سیاستدانوں کے لیے یہ تجویز خوش کن نہیں۔ وہ کسی بھی ایسی تجویز سے متفق نہیں جس میں بقول ان کے طالبان جنگجوؤں کو نوازا جائے۔
عراق میں بھی اس تجویز کی بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی تھی اور جنرل لیمب کے مطابق وہ اس ماڈل کی نقل نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’رقم افراد کو نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا مطلب برے رویے کے لیے نوازا جانا لیا جائے گا‘۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ اس رقم کے طالبان جنگجوؤں کے ہاتھ نہ لگنے سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہوگا۔
ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف افغانستان میں سیاسی حمایت برقرار رکھنے کا طریقہ ہو۔ جنرل لیمب کے مطابق عراق سے انہوں نے جو سبق سیکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایسے معاملات میں حکومت کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ عراق میں امریکہ اور برطانیہ نے یہ کام حکومتی شرکت کے بغیر سرانجام دیا جس کا زیادہ اچھا نتیجہ نہیں نکلا۔ لیکن اب افغانستان میں جنرل لیمب کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ہر مرحلے پر افغان حکومت سے مشاورت کر رہے ہیں۔
القاعدہ کے خلاف مزاحمتی تحریک کے آغاز میں افعانستان کے حالات عراق جیسے نہیں ہیں۔ عراق میں امریکہ کی حامی ملیشیا اس لیے بن پائی کیونکہ وہاں کے سنّی قبائل مغربی عراق میں القاعدہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ مزاحمت امریکی حمایت کے بغیر شروع ہوئی تھی لیکن تاحال افغانستان میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ایسی کسی تحریک کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔
ان علاقوں پر طالبان کی گرفت بہت مضبوط ہے اور ایسے حالات میں جب امریکہ اور برطانیہ میں افغان جنگ کے حق میں عوامی حمایت کم ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ وقت طالبان کے ساتھ ہے۔.
ان حالات میں جب جنرل لیمب سے پوچھا جائے کہ وہ کیا اشارے ہیں جو اس بات کا مظہر ہوں گے کہ حالات ٹھیک سمت میں جا رہے ہیں تو ان کا کہنا ہے کہ ’چھ ماہ بعد آ کر مجھ سے بات کرنا‘۔





















