’طالبان امریکہ سے مذاکرات کر سکتے ہیں‘

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
طالبان کے دور میں افغانستان کے وزیر خارجہ ملا وکیل احمد متوکل نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کا ایک حصہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں ملا وکیل متوکل نے کہا کہ تمام طالبان بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوں گے لیکن اگر امریکہ افغانستان سے نکل جانے کے لیے تیار ہو تو بعض طالبان بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ملا متوکل نے کہا کہ القاعدہ کا بین الاقوامی ایجنڈہ ہے جبکہ طالبان کا ایسا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور وہ لچک دار رویہ اپنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا القاعدہ اور طالبان کے درمیان یہ فرق ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ طالبان افغانستان کی سرزمین کو امریکہ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
ملا متوکل کا بیان ایک وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر اس قانون پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت جنگ سے کنارہ کشی کرنے والوں کی مالی مدد کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کو از سر نو جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ صدر اوباما بدھ کے روز بھی جنگی کونسل سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
امریکہ متوکل کو ممکنہ طور پر ثالث خیال کرتا ہے اور اس سلسلے میں ان سے گزشتہ برس سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کی کوششوں کے تحت سعودی عرب میں بات چیت ہوچکی ہے۔
ملا متوکل سے انٹرویو کرنے والے سی این این کے نمائندے کرس لارنس نے ملا متوکل کے حوالے سے کہا کہ ان سے بہت سے امریکی سفارت کار ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما ان دنوں افغانستان مزید فوج بھیجنے سے متعلق اپنے سینیئر مشیروں اور فوج کے اعلیٰ اہلکاروں سے صلاح مشورے کر رہے ہیں اور نائب صدر جو بائیڈن سمیت اوباما انتظامیہ کے متعدد اہلکاروں کا خیال ہے کہ افغانستان مزید فوج نہ بھیجی جائے بلکہ وہاں سے نکلنے کی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے میکرسٹل نے اپنے تجزئے کے بعد صدر سے درخواست کی ہے کہ تقریباً چالیس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں۔
امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور بین الاقوامی جہادیوں کی سرگرمیوں کا گڑھ بن جائے۔ امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کے افغانستان سے نکلنے کو اسی طرح اس کی شکست کے طور پر دیکھا جائے جیسا سوویت یونین کے نکلنے کو دیکھا گیا تھا۔
اس پس منظر میں امریکی حکام یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان کا ایجنڈہ اپنے ملک کی سطح پر ہے اور وہ امریکہ کے لئے خطرہ نہیں اس لئے ان سے بات چیت ہوسکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن متعدد بار یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ طالبان جو لڑائی بند کریں اور القاعدہ سے خود کو الگ کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔
ملا متوکل نے کہا کہ طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن اگر امریکہ نے غیر نمائندہ لوگوں سے مذاکرات کئے تو افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں متوکل نے کہا کہ افغانستان میں شرعی نظام نافذ کیا جائے گا اور لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت ہوگی مگر ان کو پردہ کرنا پڑے گا اور ان کے سکول لڑکوں کے سکولوں سے الگ ہوں گے۔
امریکہ کی افغانستان سے نکلنے کی پالیسی میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ جب تک پاکستانی حکام اپنے ہاں موجود القاعدہ کو شکست نہیں دیتے اور شدت پسند گروپوں کو دنیا کے دیگر ممالک پرحملوں سے نہیں روکتے اس وقت تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے۔
لیکن امریکہ اور پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جس طرح کے تعلقات اس وقت ہیں، ان کی موجودگی میں دونوں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ اس لئے فی الحال تمام راستوں اور تجاویزوں پر غور کے باوجود براک اوباما افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔




















