افغانستان: مزید فوجی بھیجنے پر مشاورت

باراک اوباما
،تصویر کا کیپشناوباما پر افغانستان میں مزید فوجیں بھیجنے کے بارے میں جلد فیصلہ کرنے کا دباؤ ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما اپنی قومی سلامتی کی مشاورتی ٹیم کے ساتھ افغانستان میں امریکی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی تیاری میں ہیں۔

یہ مشاورت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے بارے میں ملک بھر میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے پس منظر میں کی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان کے مطابق مشاورتی میٹنگ میں جاتے وقت امریکی صدر کے ذہن میں چار مختلف آپشنز ہیں۔ لیکن ترجمان نے ان آپشنز کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

لیکن ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن کے مطابق صدر اوباما تعداد بڑھانے کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس فیصلے میں ابھی کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ صدر اوباما اس بارے میں پہلے سے ہی فیصلہ کر چکے ہیں تو اسے کچھ علم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

افغانستان میں امریکی کمانذر جنرل سٹینلے میکرسٹل نے مزید چالیس ہزار امریکی فوجیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی مشاورتی میٹنگ کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اجلاس امریکی انتظامیہ میں جاری افغانستان پالیسی پر جامع نظر ثانی کے عمل کو اختتام کے مراحل تک لے جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق یہ ممکن ہے کہ مزید فوجیوں کی تعداد جنرل میکرسٹل کے طلب کردہ چالیس ہزار سے کم ہو۔ تاہم ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسا کوئی فیصلہ جو امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہو عجلت میں نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن ان کے نقادوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں بہت تاخیر کردی ہے۔

اس وقت افغانستان میں اڑسٹھ ہزار امریکی اور چالیس ہزار اتحادی فوجی موجود ہیں۔