فوج کی واپسی یا کمی کا ارادہ نہیں:اوباما

ڈیمو کریٹ اور ریپبلکن اراکان
،تصویر کا کیپشناس میٹنگ میں کانگریس اور دونوں جماعتوں کے تقریباً تیس سینئر اہلکار شامل تھے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے بارے میں اپنی نئی حکمتِ عملی میں وہاں سے فوجیں نکالنے یا وہاں تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم افغانستان میں ان کی نئی حکمتِ عملی سب کے لیے خوش کن ثابت نہیں ہوگی۔

امریکہ کے مستقبل کے منصوبوں پر بات کرنے کے لیے کانگریس کے اہم اراکین کے اجلاس میں اوباما نے کہا کہ وہ ہنگامی حالات کے مدِ نظر حکمتِ عملی طے کریں گے۔

ڈیمو کریٹ سینیٹر ہیری ریڈ کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے اراکین نے صدر اوباما سے کہا ہے کہ وہ ان کی حمایت کریں گے تاہم ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل کا کہنا ہے کہ اوباما کی حمایت اس بات پر منحصر کرے گی کہ وہ اپنے جرنیلوں کے مشورے پر عمل کریں گے۔

وائٹ ہاوس میں مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اس بات پر بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ کیا امریکہ کو افغانستان میں مزید افواج بھیجنی چاہئیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ میٹنگ میں صدر اوباما نے اس بات کو واضح تو کیا ہے کہ ان کے فیصلے سے اس کمرے میں موجود لوگوں یا عوام میں سے ہر ایک کو خوشی نہیں ہوگی لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ سب کو ساتھ لیکر کام کرنا چاہتے ہیں۔

اس میٹنگ میں کانگریس اور دونوں جماعتوں کے تقریباً تیس سینئر اہلکار شامل تھے۔

ڈیمو کریٹک سپیکر نینسی پلوسی نے بتایا کہ میٹنگ میں کچھ باتوں پر اتفاق تو ہوا لیکن کچھ پر اختلافِ رائے بھی تھی۔

اس میٹنگ سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا تھا کہ صدر اوباما اس بات کو ’انتہائی اہم‘ تصور کرتے ہیں کہ کانگریس کی بات سنی جائے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سیاسی رائے میں بہنا بھی نہیں چاہتے‘۔

یہ میٹنگ امریکی وزارتِ دفاع کے اس بیان کے بعد کی گئی کہ افغانستان میں مزید افواج بھیجنے کے فیصلے پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔