صدر اوباما کی ’جنگی کونسل‘ کا اجلاس

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کے لئے اپنی ’جنگی کونسل‘ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے۔
براک اوباما ان دنوں قومی سلامتی سے متعلق اپنے اہم ترین مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور جمعہ کی شام ہونے والی یہ میٹنگ اس سلسلے کی چوتھی میٹنگ تھی۔
اس اجلاس میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے علاوہ امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیکل مُلن، افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسٹینلے مککرسٹل، قومی سلامتی کے مشیر اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے شرکت کی جبکہ امریکہ کے افغانستان اور پاکستان میں تعینات سفیروں نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اس موقع پر اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے وہاں مزید فوج کی تعیناتی کے حوالے سے اپنے دلائل دیئے۔
صدر اوباما نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں مزید فوج کی تعیناتی سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور وہ حکمت عملی طے کریں گے جس کے تحت افغانستان اور پاکستان میں نہ صرف القاعدہ کو شکست دی جاسکے بلکہ ان ممالک کی تعمیر نو اور ترقی کو بھی ممکن بنایا جاسکے تاکہ مستقبل میں شدت پسند گروپ پروان نہ چڑھ سکیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں سے فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم ترجمان نے واضع کیا ہے کہ یہ فیصلہ ہونے میں ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔
براک اوباما نے واضع کیا ہے کہ وہ ان مقاصد کا پہلے تعین کرنا چاہتے ہیں جو خطے میں مزید فوج بھیجنے سے حاصل کئے جائیں گے۔
امریکی معیشت اس وقت سخت مندی کا شکار ہے اور ملکی خسارہ چودہ کھرب ڈالر پر پہنچ گیا ہے ایسے میں مزید فوجی بھیجنے سے خسارے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ نائب صدر جو بائڈن نے ایک روز پہلے ہی ایک بیان میں کہا کہ ایک فوجی بھیجنے کا مقصد ہے ایک برس میں ایک ارب ڈالر کے اخراجات۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق اب تک جو اجلاس ہوئے ہیں ان میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ القاعدہ کو شکست دینا باقی تمام مقاصد سے اہم ہے اس لئے طالبان کے خاتمے کے مقصد کو ترک کیا جاسکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن متعدد بار یہ پیشکش کر چکی ہیں کہ اعتدال پسند طالبان سے بات چیت ہوسکتی ہے اور حکومت میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جو نئی حکمت عملی بظاہر سامنے آرہی ہے اس کا مقصد طالبان کو مکمل شکست دینے کے بجائے صرف یہ ہوگا ان کو مرکزی حکومت پر قبضہ کرنے کا اہل بننے سے روکا جائے اور افغانستان کو القاعدہ کی دوبارہ محفوظ پناہ گاہ بننے نہ دیا جائے۔
امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ طالبان مقامی لوگ ہیں جن کے مقاصد ملکی سطح پر ہیں اور ان کی مغرب یا امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ اس خیال کے پیش نظر انتطامیہ اس تجویز پر بھی غور کر رہی ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ڈرون طیاروں کی کارروائیوں کو وسعت دی جائے جو پاکستان اور صومالیہ میں بہت کارگر ثابت ہوئی ہیں۔
جنرل مککرسٹل نے صدر اوباما کو متعدد تجاویز دی ہیں جن میں دس ہزار سے لیکر چالیس ہزار تک مزید فوجیوں کی تعیناتی شامل ہے۔ لیکن ملک میں افغان جنگ کی حمایت تیزی سے گر رہی ہے۔ جولائی میں چوالیس فیصد لوگ اس جنگ کے حق میں تھے اور اب صرف چالیس فیصد۔
یہاں تک کے صدر اوباما کے کئی قریبی ساتھی بھی جنگ اور مزید فوجیوں کی تعیناتی کے حق میں نہیں۔ صدر اوباما کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگ ان کو ورثے میں ملی ہے اور وہ یوں اسے درمیان میں چھوڑ کر جا نہیں سکتے۔




















