زیادہ فوجی افغانستان نہ بھیجیں: نئی تجویز

افغانستان میں امریکی سفیر نے صدر براک اوباما کے نام ایک خط میں ہزاروں مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کی تجویز کی مخالف کی ہے۔سفیر کارل ایکینبری نے افغانستان میں ’کرپشن‘ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت کو پہلے یہ بھی ثابت کرنا چاہیے کہ وہ کرپشن پر قابو پا لے گی۔
افغانستان میں امریکی سفیر کی یہ رائے افغانستان میں امریکی پالیسی کی تشکیل کے درمیان ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صدر براک اوباما جنگی کونسل کے اراکین سے مسلسل ملاقاتوں میں مصروف ہیں جن میں مختلف تجاویز پر بحث ہو رہی ہے۔
ان میں سے ایک اہم تجویز جنرل سٹینلے میکرسٹل کی ہے جو چاہتے ہیں کہ لگ بھگ چالیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں۔
افغانستان میں امریکی سفیر کی ڈرامائی تجویز براہِ راست اس تجویز سے متصادم ہے جو جنرل سٹینلے میکرسٹل پہلے ہی پیش کر چکے ہیں اور جس پر گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی جنگی کونسل میں مسلسل بحث ہو رہی ہے۔ کابل میں امریکی سفیر کارل افغانستان میں فوجی کمانڈر کی حیثیت میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
بدھ کو بھی صدر اوباما نے افغانستان سے متعلق کسی حکمتِ عملی کو طے کرنے کے سلسلے میں آٹھویں مرتبہ وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقاتیں کیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی افغانستان بھیجنے یا نہ بھیجنے کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔ خیال ہے کہ اس حوالے سے ماہِ رواں کے آخر یا اگلے مہینے کے اوئل میں حتمی امریکی پالیسی کا اعلان کر دیا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق کابل میں امریکی سفیر نے اپنا خفیہ خط وائٹ ہاؤس میں گزشتہ ہفتے روانہ کیا جس میں انھوں نے نہ صرف افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کی تجویز پر تشویش ظاہر کی بلکہ یہ بھی کہا کہ صدر کرزئی کو چاہیے کہ وہ کرپشن پر قابو پائیں اور یہ کہ مزید(ہزاروں کی تعداد میں) فوج بھیجنے کی تجویز اچھی نہیں ہے۔
اس وقت افغانستان میں اڑسٹھ ہزار امریکی فوجی ہیں جو دیگر ممالک کی طرف سے بھیجی گئی بین الاقوامی فوج کے ساتھ طالبان سے نبرد آزما ہیں۔ یوں افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے۔
اس سے قبل واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ صدر براک اوباما نے افغانستان فوری طور پر مزید فوج بھیجنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جب تک افغانستان کی حکومت اپنی حکمت عملی اور اوقات کار کی یقین دہانی نہیں کراتی، مزید امریکیوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
براک اوباما نے افغانستان اور پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے بدھ کے روز اپنی جنگی کابینہ کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کی جس میں ان کے سامنے افغانستان مزید فوج بھیجنے کا ایجنڈا سرفہرست تھا۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے مک کرسٹل نے سرزمین پر صورتحال کے جائزے کے بعد مزید چالیس ہزار فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی۔
امریکی اہلکاروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ صدر اوباما کے سامنے کل چار تجاویز تھیں جن میں بیس ہزار سے چالیس ہزار تک مزید فوجی بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی لیکن اہلکاروں کے مطابق صدر اوباما نے کہا کہ وہ بغیر کسی اوقات کار اور وہاں سے نکلنے کی حکمت عملی کے بغیر افغانستان کی بدعنوان حکومت کے لیے اپنے فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔
اہلکاروں کے مطابق براک اوباما چاہتے ہیں کہ ان کو افغانستان سے نکلنے کی حکمت عملی واضح کی جائے اور افغان حکومت یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ کتنے عرصے میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے گی؟ مقامی پولیس اور فوج کتنے عرصے میں تیار ہوگی؟ اور حکومت کے امور سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ ان تمام سوالات کے بعد ہی مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے امریکی حکومت سخت ناخوش ہے اور حالیہ فراڈ انتخابات کے بعد تو امریکی حامد کرزئی کو ایک بااعتماد پارٹنر کے طور پر بلکل نہیں دیکھ رہے۔ براک اوباما کی انتظامیہ حامد کرزئی اور ان کے بھائی سے متعلق بدعنوانی کی رپورٹوں سے بخوبی واقف ہے اور چاہتی ہے کہ خود کو کرزئی کی پالیسیوں سے الگ دکھائے۔






















