افغانستان سے واپسی کے لیے اجلاس

گورڈن براؤن
،تصویر کا کیپشن’ہمیں واپسی کا پروگرام طے کرنا چاہیے‘

برطانیہ میں وزارت دفاع نے اس خبر کی تردید کی ہے افغانستان میں برطانوی فوجیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو پیسے دے کر طالبان میں شامل ہونے سے روکیں جو ان کی تحریک کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کو افغانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے فوری نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں میں مالی اعانت فراہم کرنے کے بارے میں ضرور ہدایات دی جاتی ہیں۔

برطانوی روزنامہ ’دی ٹائمز‘ نے فوجیوں کو جاری کیے گئے ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی تھی کہ فوجیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانوں کو طالبان کا حصہ بننے سے روکنے کے لیے انہیں پیسوں کی پیشکش کریں۔

دریں اثناء برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نئے سال کے موقع پر افغانستان میں سکیورٹی معاملات افغان حکومت کے حوالے کرنے کے بارے میں غور کرنے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے، لندن کے لارڈ میئر کے اعشایئے کے موقع پر خارجہ امور کے بارے میں، اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ نیٹو سن دو ہزار دس میں افغانستان سے انخلاء کے لیے پروگرام طے کرے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ضلع بہ ضلع سکیورٹی کی ذمہ داری افغان دستوں کے حوالے کر دینی چاہیے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ لندن میں ہونے والا مذکورہ اجلاس ’انخلاء‘ طے کرنے والا سربراہی اجلاس نہیں ہوگا بلکہ اس میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

برطانوی روزنامے ’دی ٹائمز‘ نے خبر دی تھی کہ افغانستان میں تعینات فوجیوں کے لیے نیا ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں طالبان کے خلاف لڑائی میں پیسہ کے لالچ کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

خبر کے مطابق پیر کو شائع ہونے والے ہدایت نامے میں ایسے لوگوں کو پیسے سے خریدنے کی بات کی گئی ہے جن کے بارے میں شک ہو کہ وہ طالبان کے دستوں میں بھرتی ہو سکتے ہیں۔

اخبار کے مطابق ہدایت نامے میں فوجی کمانڈروں سے کہا گیا ہے کہ لڑائی کے جلد خاتمے کے لیے وہ ایسے مزاحمتکار رہنماؤں سے بھی بات کریں ’جن کے ہاتھ خون میں رنگے‘ ہوں۔

اخبار کے مطابق نئی ہدایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ برطانوی اور نیٹو افواج تین سال تک طالبان کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد نئی حکمت عملی وضع کر رہی ہیں۔ خبر کے مطابق نیا ہدایت نامہ فوج کی طرف سے اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ شمالی آئرلینڈ کے تجربے کی بنیاد پر قائم ہونے والا نظریہ اب پرانا ہو چکا ہے۔

ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ فوجی کمانڈر افغانوں کو اتنا پیسہ دیں کہ وہ ’دشمن‘ کے ساتھ ملنے کا نہ سوچیں۔ اخبار نے کہا ہے کہ طالبان نئے ریکروٹ کو یومیہ تقریباً دس ڈالر ادا کرتے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل پال نیوٹن نے کہا ہے کہ مزاحمت کاروں کے خلاف بہترین ہتھیار گولی نہیں مارتے، بلکہ دوسرے الفاظ میں فوری طور پر صورتحال اپنے حق میں کرنے کے لیے سونے کا استعمال کریں۔ ’لیکن سونا انہیں سیدھے مت پکڑائیں، یہ کام سمجھداری سے کرنے کا ہے‘۔

افغانستان اور عراق میں برطانوی فوجی کمانڈر شکایت کرتے رہے ہیں کہ پیسے کے معاملے میں امریکیوں کے مقابلے میں ان کا ہاتھ خاصا تنگ رہا ہے۔