’جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک ہے‘
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے جمعہ کو افغانستان کے بارے میں حکومتی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کو دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی اور منظم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
افغانستان کے بارے میں ایک اہم تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان فوج اور پولیس جب سکیورٹی مہیا کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو برطانوی فوج کو واپس بلا لیا جائِے گا۔
انہوں نے افغان فوج اور پولیس کی تربیت کو تیز کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔
حکمران لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن ایرک جوئس نے، جو کہ وزیر دفاع کے مشیر بھی تھے گزشتہ روز یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ افغانستان میں برطانوی فوج کی تعیناتی کے لیے وقت کا تعین بھی کیا جانا چاہیے۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’جب ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو ہم وہاں سے منہ نہیں موڑ سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں برطانوی فوج کو مزید مالی اور لاجسٹک وسائل مہیا کیئے جا رہے ہیں۔
بی بی سی کے سیاسی امور کے مدیر نک رابنسن نے کہا ہے کہ وزاعظم کے عملے کے ارکان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی تقریر ایرک جوئس کے استعفی کا رد عمل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاؤنگ اسٹریٹ کو سن اخبار میں وزیر اعظم پر ہونے والی تنقید پر زیادہ تشویش ہے۔ سن اخبار نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم افغانستان کے معاملے پر قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم اپنی تقریر میں کہا کہ ’جب کبھی بھی میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا افغانستان میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ ٹھیک اور کیا ہم اپنے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو وہاں بھیجنے میں حق بجانب ہیں تو ہمیشہ مجھے جواب ہاں ہی میں ملتا ہے۔‘
انہوں نے یہ دلیل دی کہ اس کارروائی کا مقصد برطانوی لوگوں کو دہشت گردی کے خطرے سے بچانا ہے اس میں چالیس کے قریب ملک شامل ہیں جن کو اقوام متحدہ، جی ایٹ ملکوں، نیٹو اور یورپی یونین کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ سب کو ان سے خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان مشن اس وقت کامیاب ہو جائے گا جب ہمارے فوجی واپس آ جائیں گے اور افغان خود یہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گے۔
جمعرات کو وزیر دفاع نے دو مزید فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی جس سے افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد دو سو بارہ ہو گئی ہے۔
ایرک جوئس نے کہا کہ استعفی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ عوام بہت زیادہ عرصے تک افغانستان میں ہونے والے نقصانات کو اس دلیل پر برداشت کرتے رہیں کہ برطانوی سڑکوں کو ممکنہ دہشت گرد حملوں سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس بے یقینی کی صورت حال میں زیادہ دیر افغانستان میں فوجی کارروائی جاری نہیں رکھ سکتے۔‘
لیکن سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے وزیر لارڈ ویسٹ جنہوں نے ایرک جوئس کا خط دیکھا تھا بی بی سی کو بتایا کہ ’ انہوں نے جو تصویر پیش کی وہ اس کو سمجھ نہیں سکے ہیں اور یہ کافی مبہم ہے۔‘
انہوں نے کہا جو کچھ ان کی نظروں سے گزرتا ہےاس کے دیکھتے ہوئے ان کی ذہن میں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ فتح اور افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کا واضح خطرہ ہے۔
افغانستان میں اس وقت نو ہزار برطانوی فوجی موجود ہیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں ان فوجیوں کے پاس آلات اور سازوسامان کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔





















