’افغانستان کیلیے مزید پانچ سو فوجی‘

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران افغانستان میں مزید پانچ سو برطانوی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا برطانوی فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کا مشروط فیصلہ فوجیوں کو مطلولبہ اسلحہ کی فراہمی اور نیٹو ممالک کی طرف سے مزید فوج افغانستان بھیجنے کے اعلان کے بعد کیا جائے گا۔

گارڈن براؤن نے جولائی کے بعد افغانستان میں مرنے والے سینتیس برطانوی کو فرداً فرداً خراب عقیدت پیش کیا۔

افغانستان میں اس وقت نو ہزار برطانوی فوجی تعینات ہیں جو کہ امریکہ کے بعد دوسرا بڑا فوجی دستہ ہے تاہم امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل افغانستان کے لیے مزید افواج کی فراہمی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد دو سو اکیس ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے برطانوی وزیراعظم کو فوج واپس بلانے کے لیے دباؤ کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔

وزیراعظم گورڈن براؤن اپنی تقریر کی ابتداء میں افغانستان میں وسط جولائی کے بعد ہلاک ہونے والے سینتیس فوجیوں کے نام لے کر انہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔

بی بی سی کے دفاعی تجزیہ کار کیرولین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فوجی سربراہ سے یقین دہانی چاہیں گے کہ ان فوجیوں کو مناسب سازوسامان سے لیس کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس خواہش کا اظہار بھی کریں گے کہ نیٹو ممالک ان کے اس اقدام کی پیروی کرتے ہوئے افغانستان کے لیے مزید فوج بھیجنے کا اعلان کریں۔

نیٹو ممالک کے دفاعی وزراء اگلے ہفتے سلوواکیا میں منعقد ہونے والے ایک غیر سرکاری اجلاس میں مزید فوجیوں کی تعیناتی پر بحث کریں گے۔

واضح رہے کہ برطانوی حزب اختلاف کی جماعتیں افغانستان میں تعینات فوجیوں کے پاس موجود آلات اور سازوسامان کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔