سیاف پر حملہ،پانچ محافظ ہلاک

افغانستان کے ایک سابقہ جنگی سالار عبدالرسول سیاف ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے ہیں لیکن اس حملے میں ان کے کم از کم پانچ ذاتی محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔
عبدالرسول سیاف جو اب رکنِ پارلیمان ہیں، کابل کے شمال کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے ان کے قافلے کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ عبدالرسول سیاف پر اس قاتلانہ حملے کا ذمہ دار کون ہے۔ عبداالرسول سیاف صدر حامد کرزئی کے حلیف ہیں جنھوں نے دوسری مدت کے لیے عہدۂ صدرات کا حلف منگل کو اٹھایا۔
اس سے قبل افغانستان کے جنوب مغرب میں ایک بم دھماکے میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق عبدالرسول سیاف پر پغمان ضلع میں جو کابل کے شمال میں واقع ہے، حملہ کیا گیا۔ سیاف نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور انھوں نے انیس سو چھیانوے سے سنہ دو ہزار ایک تک طالبان کے مخالف شمالی اتحاد کی حمایت کی تھی۔طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عبدالرسول سیاف سنہ انیس سو پچانوے میں رکنِ پارلیمان بن گئے۔
تاہم ہیومن رائٹس واچ نے ان پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا ہے۔
مغربی رہنما افغان صدر حامد کرزئی پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر بدعنوانی کی بیخ کنی کریں اور اپنی حکومت سے سابقہ جنگی سرداروں کو ہٹائیں۔
اس سے قبل افغانستان کے جنوب مغربی علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خود کش بمبار کے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

یہ حملہ صوبہ فراح کے دارالحکومت فراح شہر کے بازار میں ہوا جس میں چھتیس افراد زخمی بھی ہوئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فراح شہر کے پولیس سربرہ نے کہا ’ایک خوکش بمبار نے، جو موٹر سائیکل پر سوار تھا، شہر کے مرکزی علاقے ادا ہیرات میں حملہ کیا۔‘





















