کامن ویلتھ: ’اجلاس نتیجہ خیز ہوگا‘

کامن ویلتھ کے رہنما ویسٹ انڈیز کے شہر ٹرینیڈاد میں موسمی تبدیلی کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس دنیا میں ہونے والی موسمی تبدیلیوں کےاثرات پر غورکرے گا۔ یہ اجلاس ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل آخری بڑا اجلاس ہو گا۔
اقوام متحدہ کے سیکڑی جنرل بان کی مون ، فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور ڈنمارک کے وزیراعظم لارز راس موسین اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اجلاس کا دوسرا اہم موضوع سنہ دو ہزار گیارہ میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ سربراہی اجلاس کی جگہ کا تعین ہو گا۔ برطانیہ، سری لنکا کی جانب سے سربراہی اجلاس کا اپنے مملک میں انعقاد رکوانے کی کوشش کرے گا۔
ٹرینیدڈاد میں ہونے والے اجلاس میں روانڈا کی رکنیت پر بھی غور کرے گا۔
کامن ویلتھ کی ساٹھویں سالگرہ کے حوالے سے منعقد ہونے والا اجلاس پورٹ آف سپین میں جمعے سے شروع ہو گا۔
سات دسمبر سے ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونےسربراہی اجلاس سے قبل اس اجلاس کے ایجنڈے میں موسمی تبدیلیوں کا موضوع سرفہرست ہو گا۔
کامن ویلتھ کے تقریبا آدھے ممبران جزیرہ نما ریاستیں ہیں اور ان میں سے متعدد کو سمندر کی سطح بڑھنے سے خطرات لاحق ہیں۔
ٹرینڈاڈ اور ٹوبیکو کے وزیر اعظم پیٹرک مینگ نے جو تین روزہ اجلاس کے میزبان ہیں کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ اجلاس کوپن ہیگن میں ہونے والے اجلاس سے متعلق جس میں کاربن گیسوں کے اخراج کے حوالے سے غور کیا جائے گا، کسی معاہدے تک پہنچنے تک مدد گار ثابت ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ’ ہم امید کرتے ہیں کہ موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے کسی بیان جاری کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
کامن ویلتھ کے رہمنا چین اور امریکہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ وہ صنعتوں سے نکلنے والی گیس کے اخراج کو کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا کوپن ہیگن میں ہونے والا اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہو گا کہ نہیں ۔





















