9/11 جھٹکا یا موقع؟

امریکی سینیٹ میں حال ہی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار دو میں افغانستان کی تورا بورا کی پہاڑیوں پر ہونے والی بمباری میں اوسامہ بن لادن پھنس گئے تھے اور اگر مزید امریکی فوج وہاں بھیج دی جاتی تو اسامہ بن لادن کو وہاں سے بچ نکل کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غائب ہوجانے کا موقع نہیں ملتا۔
<link type="page"><caption> بن لادن تورا بورا میں پھنس گئے تھے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/11/091129_binladen_report.shtml" platform="highweb"/></link>
ڈیلاویر یونیورسٹی میں پروفیسر مقتدر نے اس رپورٹ کے بارے میں بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیبرین میں بات کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ اوباما انتظامیہ کے لیے اس رپورٹ کو اس وقت جاری کرنے کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ کو جاری کرنے کا وقت نہایت اہم ہے کیونکہ آئندہ چند دنوں میں صدر اوباما تیس سے پینتس ہزار مزید امریکی فوج افغانستان روانہ کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوج روانہ کرنے سے قبل ہی اوباما انتظامیہ میں ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ یہ فوج بھی کافی نہیں ہو گی اور افغانستان میں امریکہ کو اپنی ناکامی کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا اسی لیے ڈیموکریٹ پارٹی عوام کی نظروں میں صدر اوباما کو سابق بش انتظامیہ کی پالیسیوں اور افغانستان کے بارے میں ان کے مسلسل غلط فیصلوں کے ’وکٹم‘ یا متاثر کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا یہ رپورٹ پہلی بار منظر عام پر نہیں آئی ہے اور چار برس قبل بھی یہ بات کہی گئی تھی کہ اسامہ بن لادن تورا بورا کے پہاڑی سلسلے میں پھنس گئے تھے اور اگر مناسب تعداد میں وہاں امریکی فوجیوں کو تعینات کر دیا جاتا تو انھیں زندہ یا مردہ حالت میں پکڑا جا سکتا تھا۔
گیارہ ستمبر دو ہزار ایک اور اس کے بعد امریکی پالیسیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتداء میں تو گیارہ ستمبر کے واقعات امریکیوں کے لیے ایک بہت بڑا نفسیاتی جھٹکا تھے۔ لیکن اس کے بعد بش انتظامیہ میں سخت گیر خیالات رکھنے والے قدامت پسندوں نے جن کے لیے ’نیو کانز‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے، اسے ایک سنہری موقع کے طور پر لیا۔
انھوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے امریکہ کی خارجہ پالیسی بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور ’امریکن ایمپائر‘ یا امریکی سلطنت کو وسعت دینے کا موقع تصور کیا۔ اسی طرح امریکی کارپوریشنز نے بھی اس سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرق وسطٰی میں امریکی مفادات کو آگے بڑھانا شروع کیا اور عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اگر اپنی پوری توجہ افغانستان پر دیتا تو اسامہ بن لادن کو پکڑا یا ختم کیا جا سکتا تھا اور دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ دو تین سال ہی میں ختم ہو سکتا تھی۔
اسامہ بن لادن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ رپبلیکن اور ڈیموکریٹ اس طرح کی خبروں کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریپبلیکن کہتے رہے ہیں کہ انیس سو چھیانوے میں اسامہ بن لادن ایک نشانچی کے نشانے پر آ گئے تھے۔ لیکن جب اس وقت کے صدر بل کلنٹن سے ان کو ختم کرنے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بیس منٹ تک کوئی جواب ہی نہیں دیا۔




















