ایران نے برطانوی شہریوں کو رہا کر دیا

فائل فوٹو، برطانوی کشتی
،تصویر کا کیپشنپانچوں برطانوی شہریوں کو کشتی سمیت پچیس اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا

برطانیہ کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے ایک ہفتے سے حراست میں لیے گئے پانچ برطانویوں کو رہا کر دیا ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ( برطانوی ملاح) بین الاقوامی سمندر میں پہنچ رہے ہیں جہاں وہ جہاز راں کمپنی کے نمائندے سے ملیں گے۔‘

اس سے پہلے ایرانی ریڈیو کے مطابق ان برطانوی شہریوں کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے رہا کر دیا گیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کو سری نامی جزیرے میں رکھا گیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حراست میں لیے گئے پانچوں افراد کو تحقیقات کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ایران کے پاسدارن انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تحقیقات سے واضح ہو گیا ہے کہ برطانوی ملاحوں کی کشتی غلطی سے سمندری حدود میں داخل ہوئی تھی۔

بیان کے مطابق ’چند ضروری ضمانتیں لینے کے بعد برطانوی ملاحوں کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا۔‘

پانچوں افراد کی رہائی کی خبر برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کی ان کے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے چند گھنٹے بعد آئی ہے۔

ایرانی حراست سے رہا ہونے والے بیوری پورٹر کی والدہ نے برطانوی دفتر خارجہ کے اس معاملے میں لگن سے کام کرنے کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے ایران کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر میں یہ صرف ایک انسانی غلطی تھی۔

خیال رہے کہ برطانوی شہری بحرین سے ایک کشتی میں سوار دبئی میں منعقد ہونے والی ایک ریس میں حصہ لینے کے لیے جا رہے تھےجب ان کی کشتی غلطی سے ایران کی سمندری حدود میں چلی گئی۔ایران بحریہ نے اس کشتی کو روک کر پانچوں شہریوں کو حراست میں لے لیا تھاتاہم یہ پانچوں خیریت سے ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ واقعہ پچیس نومبر کو پیش آیا لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایرانی حکام نے اس واقعے کو کیوں پوشیدہ رکھا۔