تمام امیدیں پوری نہیں ہوئیں:بان کی مون

کوپن ہیگن میں جاری موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اجلاس میں شامل ممالک نے بالاخر امریکی حمایت یافتہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے تاہم اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ لوگوں کی امیدوں پر مکمل طور پر پورا نہیں اترا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سنیچر کی صبح صحافیوں کو بتایا کہ ’آخرِ کار معاہدہ طے پا گیا ہے‘۔
بعد ازاں اجلاس سے اپنے اختتامی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کوپن ہیگن میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی اجلاس میں بات چیت کا نتیجہ مکمل طور پر ویسا نہیں نکلا جس کی لوگوں کو امید تھی۔اجلاس کے اختتام پر اپنے خطاب میں بان کی مون نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک ’ضروری ابتداء‘ ہے۔
<link type="page"><caption> کوپن ہیگن معاہدے کا مسودہ (انگریزی)</caption><url href="http://unfccc.int/resource/docs/2009/cop15/eng/l07.pdf" platform="highweb"/></link>
امریکی صدر نے بھی ڈنمارک سے امریکہ روانگی سے قبل یہ تسلیم کیا کہ یہ معاہدہ ویسا نہیں ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔
خیال رہے کہ جمعہ کو پانچ اہم ملکوں کے ایک گروپ نے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے ایک مسودہ پیش کیا تھا اور اس مسودے کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ یہ ایک ’بامعنی‘ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کو چند ترقی پذیر ممالک نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ معاہدہ ایسے اقدامات وضع نہیں کرتا جن سے خطرناک موسمی تبدیلیوں کو روکا جا سکے۔ معاہدے کی مخالف اقوام میں نکاراگوا اور وینزویلا اور کیوبا جیسے لاطینی امریکی ممالک شامل تھے۔
وینزویلا کی مندوب نے اجلاس میں کہا تھا کہ ’جناب صدر کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے آپ اقوام متحدہ کے خلاف اس بغاوت کو ہونے دیں گے‘۔

افریقی یونین اور چھوٹے ترقی پذیر ممالک نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے۔ معاہدے کو اقوام متحدہ کے سرکاری معاہدے کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے ضروری ہے کہ اس سربراہی اجلاس میں شامل تمام کے تمام ایک سو ترانوے ملک اس معاہدے پر دستخط کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بان کی مون نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاہدہ ہو جانے سے تمام ملکوں کے لیے تحفظِ ماحول کے مشترکہ ہدف پر کام کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا: ’ماحول کے لیے ضرر رساں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے، آلودگی سے پاک ترقی کے نئے دور کے آغاز اور کمزور اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرے سے دوچار ملکوں کی مدد کی خاطر ایک حقیقی عالمی معاہدے کی بنیاد پیدا ہو گئی ہے۔ تمام ملکوں نے درجۂ حرارت میں اضافے کو دو درجے سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کے ہدف پر اتفاق کیا ہے۔ بہت سی حکومتوں نے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ختم یا کم کرنے کے ٹھوس وعدے کیے ہیں اور کئی ملکوں نے جنگلات کے تحفظ کے لیے پیش رفت بھی کی ہے۔‘
جمعہ کو امریکہ، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا جن میں اس بات کی اہمیت کا اعتراف بھی کیا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں جاری اضافے کو دو سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جانا چاہیے۔ صدر اوباما نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو یہ معاہدہ ایک بنیاد فراہم کرے گا تاہم ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
پانچ ملکوں نے اس معاہدے میں اگلے پانچ برس میں ترقی پذیر ملکوں کو تیس ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور سن دو ہزار بیس تک مجموعی طور پر سو ارب ڈالر مہیا کرنے کا کہا ہے تاکہ یہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے نمٹ سکیں۔
اس معاہدے میں ترقی یافتہ ملکوں کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے جس سے وہ مضر گیسوں کے اخراج کو روک سکیں۔امریکہ نے کہا تھا کہ چین نے اس طریقہ کار کی مخالفت ختم کردی ہے۔






















