گردیز: جھڑپ میں دو طالبان ہلاک

افغانستان میں سکیورٹی فورسز نے جنوب مشرقی صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں ایک عمارت پر قبضہ کرنے والے طالبان حملہ آوروں میں سے دو کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ان کے تین ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
پکتیا کے گورنر کے ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران کئی شہری اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پانچ حملہ آوروں پر مشتمل گروپ نے پیر کی صبح گردیز کے مرکزی حصہ میں پولیس سٹیشن کے قریب واقع ایک سرکاری عمارت میں مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے گھس کر قبضہ کر لیا جس کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔
روح اللہ سمعون کے مطابق طالبان اور سکیورٹی فورسز میں جھڑپ کئی گھنٹے جاری رہی جس میں دو طالبان کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ تین فرار ہونے میں کامیاب رہے جن کی تلاش جاری ہے۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان حملہ آوروں میں سے کچھ خودکش جیکٹیں بھی پہنے ہوئے تھے۔ ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پانچ طالبان نے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا ان تمام حملہ آووروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی ہیں اور ان کے پاس راکٹ سے داغے جانے والے گرنیڈ بھی موجود ہیں۔
مشرقی افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں کافی عرصے سے جاری ہیں اور یہ حصہ ان کی کارروائیوں کو گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق طالبان کی طرف سے مربوط حملے جن کا نشانہ اکثر سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک کو بنایا جاتا ہے روز کا معمول بن گئے ہیں۔
اس سال جولائی میں خود کش حملے آووروں نے گردیز شہر میں چار جگہوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں صوبے کےگورنر کا احاطہ بھی شامل ہے۔
















