طالبان کے زیرِ حراست فوجیوں سے ملاقات

یہ پہلا موقع ہے کہ آئی سی آر سی کے نمائندوں نے طالبان کے زیر حراست افراد تک رسائی حاصل کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع ہے کہ آئی سی آر سی کے نمائندوں نے طالبان کے زیر حراست افراد تک رسائی حاصل کی ہے۔
    • مصنف, رضا ہمدانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے دو ملاقاتوں میں افغانستان کے شمال مغربی صوبہ بادغیس میں طالبان کے زیر حراست افغان سکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں سے ملاقات کی ہے۔

آئی سی آر سی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار ایک مسلح تصادم کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ آئی سی آر سی کے نمائندوں نے مسلح گروپ کے زیر حراست افراد تک رسائی حاصل کی ہے۔

بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ ملاقات کب ہوئی ہے۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات نومبر کے آخری ایام میں ہوئی۔

بیان کے مطابق عالمی ریڈ کراس کو اس بات کی امید ہے کہ اس پہلی ملاقات کے بعد تنظیم کو دیگر مقامات پر بھی مسلح گروہوں کی زیر حراست افراد تک رسائی اور ان سے ملاقات کے لیے قید خانوں کا دورہ کرنے کے مواقع میسر ہوں گے۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس مسلح تصادم کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے لوگوں تک رسائی مانگتی ہے اور اس کے نمائندے ان سے جیلوں اور قید خانوں میں ملاقات کرتے ہیں تاکہ زیر حراست افراد کا رابطہ ان کے خاندان والوں کے ساتھ ریڈ کراس پیغامات کے ذریعے بحال کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ زیر حراست افراد کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا ہے۔

مسلح تصادم کے باعث گرفتارافراد کی صورتحال، اور ان سے کیے جانیوالے سلوک کےبارے میں آگاہی کے لیے آ‎ئی سی آر سی کے زیراہتمام مستقل بنیادوں پرمختلف جیلوں کے دورے کئے جاتے ہیں۔ بعدازاں ان دوروں سے حاصل ہونے والی معلومات، گزارشات اورخدشات کا تبادلہ انتہائی رازداری سے متعلقہ حکام کیساتھ کیا جاتا ہے تاکہ وہ قیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک کو یقینی بنا سکیں۔ اسکے علاوہ آ‎ئی سی آر سی قیدیوں اور انکے رشتے داروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ بھی کرتی ہے۔