معاہدہ روک کر اپنے تحفظات کا دفاع کیا:بھارت

سویڈن کے وزیر ماحولیات آندریز کارلگرین نے برسلز میں کوپن ہیگن سربراہ اجلاس کو ایک آفت اور اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کو ناکام قرار دیا
،تصویر کا کیپشنسویڈن کے وزیر ماحولیات آندریز کارلگرین نے برسلز میں کوپن ہیگن سربراہ اجلاس کو ایک آفت اور اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کو ناکام قرار دیا

بھارت نے اعتراف کیا ہے کہ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونے والی بین الاقوامی موسمی کانفرنس میں اس نے چین، برازیل اور جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے کو کامیابی سے روکا۔

بھارت کے وزیر برائے ماحولیات جے رام رمیش نے منگل کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے کو کامیابی سے رکوا کر بھارت نے اپنے تحفظات کا دفاع کیا ہے۔

ماحولیات کے وزیر کا کہنا تھا کہ یہ چار ممالک اس کانفرنس میں مذاکرات کے دوران ایک مضبوط قوت کے طور پر سامنے آئے۔

دوسری جانب سویڈن کے وزیر ماحولیات آندریز کارلگرین نے برسلز پہنچتے ہی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کوپن ہیگن سربراہ اجلاس کو ایک آفت اور اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کو ناکام قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’ہم یہاں اسی لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ کوپن ہیگن میں آنے والی آفت کا حل تلاش کریں۔ سربراہ اجلاس اور اس موقع پر ہونے والے مذاکرات ایک عظیم ناکامی ہے اور ہمیں اس سے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ یورپی ممالک میں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا لیکن کچھ ملک عملی اقدام کرنا ہی نہیں چاہتے، جیسے امریکہ اور چین۔‘

کوپن ہیگن اجلاس میں تمام یورپی ممالک متفقہ ایجنڈے کے ساتھ گئے جو یہ تھا کہ باقی دنیا کو بھی زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی پر رضامند کیا جائے۔ لیکن امریکہ نے یورپ کو نظر انداز کر کے چین، بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل کے ساتھ مل کر آخری وقت میں ایک معاہدہ کیا اور پھر اسے اجلاس میں پیش کر دیا جس میں ایک سو بانوے اقوام کے نمائندے موجود تھے۔

اس معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ عالمی درجہ حرارت کو دو ڈگری سیلسئس سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے گا لیکن اسے لاگو کرنے کے لیے کوئی قانونی طریقہ وضع نہیں کیا گیا۔ اجلاس ختم ہوتے ہی مندوبین نے اس کی ناکامی کا الزام ایک دوسرے کو دینا شروع کر دیا۔ برطانیہ نے چین پر الزام عائد کیا کہ اس نے کوپن ہیگن کانفرنس کو یرغمال بنا لیا اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق ان معاہدوں کو ویٹو کر دیا جنھیں عمومی عالمی حمایت حاصل تھی۔

ادھر چین نے برطانیہ کے اِن الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ بیجنگ نے کوپن ہیگن میں ماحولیات پر ہونے والی کانفرنس کو سبوتاژ کیا اور کہا ہے کہ ان الزامات کے پیچھے سیاسی عزائم کارفرما ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین نے عالمی حدت میں کمی پر معاہدے کی خاطر بہت محنت کی لیکن وہ برطانوی سیاست دان جو ’الٹی سیدھی‘ باتیں کر رہے ہیں، دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ پیر کو برطانیہ میں ماحولیات کے وزیر ایڈ ملی بینڈ نے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے کوپن ہیگن کانفرنس کو یرغمال بنا لیا اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق ان معاہدوں کو ویٹو کر دیا جنھیں عمومی عالمی حمایت حاصل تھی۔

بیجنگ میں دفترِ خارجہ کی ترجمان جیانگ یو کا کہنا تھا کہ برطانوی الزامات ان رہنماؤں کی سیاسی سازش ہے جنھوں نے خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔

چین اور ترقی پذیر ممالک عرصۂ دراز سے دنیا کے امیر ملکوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی زہریلی گیسوں کے اخراج کی زیادہ مقدار روکنے کی پیشکش نہیں کرتے اور نہ ان اقوام کو کسی مدد پر تیار ہوتے ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہیں۔

کوپن ہیگن کانفرنس ایک سو بانوے اقوام کے نمائندوں کی شرکت کے باوجود کسی معاہدے کے بغیر اختتام کو پہنچی تھی۔ مندوبین نے صرف یہی کہا کہ وہ اس معاہدے کے نوٹس لیں گے جس میں درجۂ حرارت کو دو درجے کم کرنے کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔