اکمل شیخ کو زہریلا انجیکشن دے دیا گیا

اکمل شیخ
،تصویر کا کیپشندو ہزار سات میں چینی صوبے شن جیانگ کے شہر ارمچی میں اکمل شیخ سے چار کلو گرام منشیات برآمد ہوئی تھی

چین میں منشیات کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے برطانوی شہری اکمل شیخ کے اہلخانہ کے مطابق ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور انھیں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر پھانسی دی جا سکتی ہے۔

گزشتہ ہفتے چینی حکام نے برطانوی حکومت اور اکمل شیخ کے اہلخانہ کی جانب سے رحم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے انھیں انتیس دسمبر کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا تھا۔

اکمل شیخ کا تعلق لندن سے ہے اور انھیں دو ہزار سات میں منشیات کی سمگلنگ کے الزم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کی بیٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد نہیں جانتے کہ انھیں کچھ گھنٹوں کے اندر فائرنگ کر کے ہلاک کیا جا سکتا ہے لیکن ایک لحاظ سے یہ بہتر بھی ہے کیونکہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

اکمل شیخ کے کزن سہیل اور ناصر شیخ چین کے صوبہ شن جیانگ پہنچے ہیں جہاں امید ہے کہ وہ سوموار کو اکمل شیخ سے ملاقات کریں گے۔ ان کے کزن کا منصوبہ ہے کہ وہ اکمل شیخ کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اس کے علاوہ چینی صدر سے بھی رحم کی اپیل کریں گے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کے ناتے اکمل شیخ کو پھانسی دیے جانے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے آگاہ کیا جا ئے گا اور ان کی بیٹی لائلا اس بات پر راضی ہو گئی ہیں۔لائلا نے کہا کہ ’ ان کے خیال میں یہ اچھا ہے کہ کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے والد اس بات کو سمجھ نہیں پائیں گے کیونکہ ہمیں زیادہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی دماغی حالت کتنی خراب ہے۔ ‘

’ہمیں معلوم ہے کہ انھوں نے ایک اپیل میں اپنا بیان دینے پر اصرار کیا تھا لیکن وہ ٹھیک طرح سے بات نہیں کر سکے اور انھوں نے جو بات کی اس کا کوئی مفہوم نہیں بنتا تھا۔‘

لائلا کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ چینی حکام ان کی رحم کی اپیل کو سنیں گے لیکن اس ضمن میں وہ زیادہ پر امید نہیں ہیں کیونکہ حکام نے پچھلے شواہد کو اچھی طرح نہیں پرکھا ہے۔’ مجھے زیادہ پر امید ہونا اچھا نہیں لگتا ہے لیکن بظاہر وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق برطانیہ کے لیے صورتحال انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ چینی حکام کی معافی دینے کے بارے میں شہرت اچھی نہیں ہے۔