کرزئی کی ناکامی پر یو این کو تشویش

افغان صدر کرزئی کے نامزد کردہ وزراء کے پارلیمان سے مسترد ہونے پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ملک کے لیے ایک سیاسی ناکامی قرار دیا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کائی ایدے نے کہا ہے کہ یہ عمل ایک فعال حکومت کے قیام میں تاخیر کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر تشویش ناک ہے کہ یہ ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جسے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
گزشتہ روز پارلیمان نے چوبیس میں سے صرف سات وزراء کی منظوری دی تھی جن میں دفاع اور داخلہ کے وزیر بھی شامل ہیں۔ مسترد ہونے والوں میں سب سے نمایاں نام صوبۂ ہرات کے سابق گورنر اور جنگی سردار اسمٰعیل خان کا ہے جن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ کابینہ میں سے سترہ وزراء کی کئی ہفتوں پر محیط ایک طویل بحث کے بعد پارلیمان نے توثیق نہیں کی ہے۔
اولسی جرگے کے سپیکر یونس قانونی نے خفیہ رائے شماری کے نتائج کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی و توانائی کے نامزد وزیر محمد اسماعیل خان کو ایک سو گیارہ حمایت میں جبکہ ایک سو نو ووٹ مخالفت میں ملے۔ لہذا وہ انہیں درکار اکاون فیصد ووٹ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
واحد خاتون وزیر حسن بانو بھی پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے سے قاصر رہیں۔
صدر کرزئی کے ترجمان نے نامزدگیاں مسترد کیے جانے کو بری خبر قرار دیا تھا لیکن کہا کہ پارلیمان کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا۔ پارلیمان کے ایک آزاد رکن داؤد سلطان زئی نے پارلیمان کے فیصلے کو جمہوریت کی فتح قرار دیا۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کائی ایدے نے اتوار کے روز کابل میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں زیادہ تر لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ اپنے تعداد میں نامزد وزراء کے نام پارلیمان سے مسترد ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اب زیادہ تر سیاسی توانائی حکومت سازی کے عمل میں ضائع ہو جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















