ممکنہ افغان وزراء کی فہرست ایوان میں

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پارلیمان میں اپنی کابینہ کے نامزد ارکان کی فہرست پیش کر دی ہے۔
اس فہرست میں ایسے دو وزراء کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے جن پر رشوت ستانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے افغان صدر سے مسلسل کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر گریسٹ کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں ممکنہ وزراء کی اس فہرست سے مطمئن ہوں گے کیونکہ اس میں شامل اہم وزراء اچھی شہرت کے حامل ہیں۔
جن دو وزراء کو اس نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے ان میں وزیرِ کانکنی اور وزیرِ حج شامل ہیں۔ کابینہ میں ایک حیران کن تبدیلی وزیرِ خارجہ رنگین سپانتا سے یہ وزارت واپس لیا جانا ہے۔ اس وزارت کے لیے ابھی کسی وزیر کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
صدر کرزئی کی جانب سے اعلان کردہ ناموں میں سے انہیں اگر کسی پر تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے تو وہ اسماعیل خان کا.نام ہے۔ اسماعیل خان صوبہ ہرات کے ایک سابق جنگجو سردار ہیں۔ اور ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور رشوت ستانی کے الزامات بھی لگائے جا چکے ہیں۔ اسماعیل خان کو نئی کابینہ میں دوبارہ پانی و توانائی کی وزارت دی گئی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق صدر کرزئی کو اپنی نئی کابینہ چننے میں مشکل پیش آئی ہے کیونکہ جہاں ایک طرف ان پر ایسے افراد کو شامل نہ کرنے کا دباؤ تھا جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو وہیں دوسری جانب انہیں ان افراد کا بھی خیال رکھنا تھا جنہوں نے ان کی دوبارہ صدر منتخب ہونے میں مدد کی تھی۔
خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے جس کے بعد دوسرے انتخابی مرحلے کا اعلان ہوا تھا تاہم یہ مرحلہ صدر کرزئی کے واحد مخالف امیدور عبداللہ عبداللہ کے دستبردار ہونے کے بعد منسوخ کر دیا گیا اور حامد کرزئی کے انتخاب کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















