برطانیہ میں عام انتخابات کا سال

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنضمنی انتخابات میں قدامت پسند اپوزیشن پارٹیوں کو کامیابی مل چکی ہے

برطانیہ میں یہ برس اپنے عام انتخابات کے لیے یاد کیا جائیگا جس کا جوش و خروش کرسمس اور نئے سال کی چھٹیوں کے بعد ہی شروع ہونے کا امکان ہے۔ حکمراں لیبر پارٹی کو ان انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑیگا۔

لیبر پارٹی کو پارلیمان کے ایوان زیریں میں تریسٹھ ارکان کی اکثریت حاصل ہے جس کا اسے دفاع کرنا ہوگا ہے۔ لیکن بارہ برس کی حکمرانی کے بعد اسے حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے اور اس بار اسے شکست نظر آرہی ہے۔

دو ہزار دس میں برطانیہ کی بڑی خبروں کی پیشین گوئی پر کوئی انعام تو نہیں لیکن آنے والے مہینوں میں انتخابات کے حوالے سے ہی خبروں کا بازار گرم رہے گا۔

اس سلسلے میں ملک کی اقتصادیات خاص طور پر بجٹ میں زبردست خسارہ اس کا ایک اہم موضوع ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق اس برس یہ خسارہ ترقی یافتہ ممالک میں برطانیہ میں سب سے زیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ انتخابات ایک طرح سے لیبر پارٹی کے بارہ سالہ دور اقتدار اور اس کے رہنماء اور وزیراعظم گورڈن براؤن کے لیے ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انتخابات ایک ایسے وقت ہورہے ہیں جب ملک میں بےروزگاری اور خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس ماحول میں انتخابات کے نتائج اپوزیشن جماعت کی فتح کے روپ میں دیکھے جا سکتے ہیں لیکن یہ جیت اتنی آسان بھی نہیں ہوگي۔

انتخابی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کنزرویٹیو پارٹی کو سبقت حاصل ہے لیکن جیت کے لیے اسے رائے دہندگان کو قائل کرنا ہوگا۔

آنے والے دنوں میں انتخابات کے حوالے سے یہی تمام مسائل بحث کا موضوع ہوں گے لیکن اس کے ساتھ امیگریشن اور سیاسی جماعتوں میں اعتماد کے بحالی جیسے موضوع بھی چھائے رہیں گے۔

امکان ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا چلن بھی دیکھنے کو ملے۔ یہ تمام قیاس آرائیاں تین جون کو انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ختم ہوں گي۔