افغانی پرامید ہیں: سروے

طالبان کے حوالے سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے
،تصویر کا کیپشنطالبان کے حوالے سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے

طالبان کے خلاف جاری مسلح کارروائی کے باوجود افغانستان کے عوام ملکی حالات کے بارے میں حیران کن حد تک پرامید ہیں۔

بی بی سی، امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی اور جرمنی کے اے آر ڈی کی طرف سے مشترکہ طور پر کمیشن کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق افغان اپنے حالات کے بارے میں ان کے خیالات اس وقت اس سے کافی بہتر ہیں جتنے ان کے ایک سال پہلے تھے۔

اس سروے کے سلسلے میں جن لوگوں کی رائے معلوم کی گئی ان میں سے ایک تہائی کے خیال میں ملکی حالات بہتر ہو رہے ہیں جبکہ اتنے ہی لوگوں کو امید ہے کہ حالات اگلے سال مزید بہتر ہو جائیں گے۔

بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار ایڈم مائنوٹ کے مطابق اس سروے کے سلسلے میں انٹرویو کیے گئے پندرہ سو افراد میں سے ستر فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں افغانستان میں معاملات صحیح رخ میں جا رہے ہیں۔

یہ جواب گزشتہ سال اسی سلسلے میں کیے گئے سروے کی نسبت تیس فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اکہتر فیصد افغان پرامید ہیں کہ آئندہ بارہ ماہ میں ملکی حالات مزید بہتر ہو جائیں گے۔ اس کے مقابلے میں پانچ فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ملکی حالات آئندہ سال خراب ہونے جا رہے ہیں۔

سروے میں سامنے آنے والی ایک اور اہم بات طالبان کے حوالے سے لوگوں کے رویے میں تبدیلی تھی۔ نوے فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی باگ ڈور موجودہ حکومت کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ انہتر فیصد طالبان کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ سروے میں انٹرویو کیے گئے سڑسٹھ فیصد افراد طالبان، القاعدہ اور غیر ملکی جہادی شدت پسندوں کو افغانستان میں تشدد کی وجہ سمجھتے ہیں۔

انٹرویو کیے گئے افراد کی اکثریت نے نیٹو اور غیر ملکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں مثبت ردِ عمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات زندگی میں عمومی لحاظ سے بہتری آئی ہے اور بجلی، طبی سہولیات اور روزگار کی دستیابی بہتر ہوئی ہے۔

صدارتی انتخابات کے موقع پر ہونے والی مبینہ دھاندلی کے باوجود بہتر فیصد افراد نے صدر حامد کرزئی کو بہترین یا اچھا قرار دیا جبکہ بارہ ماہ پہلے اس سلسلے میں ان کی ریٹنگ باون فیصد تھی۔

سروے کے نتائج کے مطابق افغان عوام پولیس اور سرکاری اداروں میں پائی جانے والی کرپشن کو ملک کا ایک بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ انٹرویو کیے گئے افراد میں سے چھہتر فیصد افراد نے کرپشن کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جبکہ انیس فیصد نے اسے درمیانے درجے کا مسئلہ قرار دیا۔