افغانستان: چھ نیٹو فوجی ہلاک

افغانستان میں گذشتہ روز اتحادی فوج نیٹو کے چھ فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا جو پچھلے دو ماہ کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں میں تین امریکی ہیں جنہیں جنوبی افغانستان میں ہلاک کیا گیا اور ایک فرانسیسی فوجی ہے جسے شمال مشرقی کابل میں مارا گیا۔ دو دیگر فوجی اہلکاروں کی قومیت کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی، شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے۔ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب وہ گشت پر تھے اور ان پر حملہ کیا گیا۔
فرانس کا کہنا ہے کہ اس کا ایک فوجی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے اور یہ واقعہ اس وقت رونماء ہوا جب فرانسیسی فوجی، افغان فوج کے ساتھ الاسے کے علاقے میں گشت کررہے تھے۔ یہ علاقہ زیادہ تر شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک نان-کمیشن افسر نے فرانس کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کیا اور اس نے اپنی زندگی افغان عوام کے امن اور تحفظ کی خاطر قربان کردی، جبکہ ایک اور افسر بری طرح زخمی ہوا۔
نیٹو کاکہنا ہے کہ ایک اور فوجی افغانستان کے شمالی جبکہ کہ دوسرا جنوبی علاقے میں ہلاک ہوا ہے تاہم نیٹو نے اب تک ان فوجیوں کی قومیتوں کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
ان فوجیوں کی ہلاکتیں ایسے وقت ہوئیں ہیں جب بی بی سی سمیت دیگر تنظیموں کی جانب سے رائے شماری کی گئی جس کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ افغانستان کے شہری اپنے ملک کے حالات سے پُرامید ہیں۔

اس رائے شماری میں ڈیڑھ ہزار افراد سے رائے طلب کی گئی جن میں سے ستّر فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ افغانستان درست سمت کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ رائے رکھنے والے افراد میں پچھلے برس کی نسبت چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے کابل میں نمائندے مارک ڈمِٹ کا کہنا ہے کہ ان چھ غیرملکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد، نئے برس افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ یہ برس بھی گذشتہ برس کی طرح غیر ملکی افواج کے لیے خونی برس ثابت ہو سکتا ہے۔ افغانستان پر سن 2001 میں حملے کے بعد سے گذشتہ برس غیرملکی افواج کے لیے بہت بھاری برس ثابت ہوا تھا۔
ہمارے نمائندوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے اور اب وہ طاقتور گولہ بارود استعمال کررہے ہیں جس سے ہلاک ہونے والے غیرملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن یہ اس لیے بھی ہورہا ہے کہ اب افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
امریکی صدر براک اوبامہ نے گذشتہ برس اعلان کیا تھا کہ شدت پسندوں کو کچلنے کے لیے مزید تیس ہزار مزید فوج افغانستان بھیجی جائے گی۔ مزید فوج آنے کے بعد افغانستان میں امریکی فوج کی کل تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کرجائے گی۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر، جنرل مک کرسٹل نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان میں فوج کی تعداد میں اضافے سے امید افزاء نتائج برآمد ہورہے ہیں اور اب بادِ مخالف طالبان کو اڑا رہی ہے۔
افغانستان میں شدت پسندی زیادہ تر جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ہے تاہم تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ اب یہ پہلے سے نسبتا پرامن علاقوں یعنی شمالی اور مغربی علاقوں میں بھی سرائیت کررہی ہے۔





















