’رائفل سے فائر کیے جانے کے شواہد نہیں‘

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں حکومتی گواہ اور ایف بی آئی میں آتشی اسلحے کے معائنے کے ماہر نے کہا ہے ان کی کوئی گواہی موجود نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ایم فور رائفل سے فائر کیے تھے اور نہ ہی ایم فور رائفل سے فائر کے نشانات اور فائر کی گئي گولیوں کا کوئي خول برآمد ہوا ہے۔
جمعہ کو نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ میں سخت سکیورٹی انتظامات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کے قائم مقدمے کی باقائدہ سماعت چوتھے روز شروع ہوئی تو جج رچرڈ برمین نے ایک بار پھر جیوری اراکین پر واضح کیا کہ ان کے سامنے مقدمے میں ڈاکٹر عافیہ کے خلاف الزمات کیمیائي اور حیاتیاتی جنگ اور دہشت گردی کے نہیں بلکہ اقدام قتل اور اس کی کوشش کے ہیں۔
مقدمے کی سماعت شروع ہوئي تو استغاثہ نے حکومتی گواہ کے طور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئي کے ورجینیا میں لیبارٹری میں آتشی اسلحے کے معائنہ کار اور ماہر کارلو جے روزاٹی کو گواہی کے لیے پیش کیا۔
معائنہ کار نے مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش کی گئی ایم فور رائفل کے بارے میں جیوری کو بتایا کہ ایف بی آئي کی لیبارٹری میں حکومت کی جانب سے انہیں معائنے کے لیے بھیجی گئي رائفل اور غزنی میں جائے وقوع والے کمرے میں پردے جس کے پیچھے سے مبینہ طور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ایم فور رائفل سے فائر کرنے کا الزام ہے، کمرے کی دیواروں کے ملبے اور قالین کے ٹکڑے کے تکنیکی اور کیمیائي طریقوں سے معائنے میں ایم فور رائفل سے آتشی اسلحہ ڈسچارج یا خارج ہونے کے شواہد نہیں مل سکے۔
معائنہ کار نے کہا کہ انہیں ایسی کوئي گواہی نہیں ملی کہ ایم فور رائفل سے فائر کیا گیا تھا۔ انہوں نے تکنیکی زبان میں جیوری کو بتایا کہ مبینہ ایم فور رائفل سے جی پی آر (گن پاؤڈر ریزیڈیو) اور جی ایس آر (گن شاٹ ریزیڈیو) کے متعلق کوئي شواہد نہیں مل سکے۔البتہ گواہ نے جیوری کو بتایا کہ ایم نائین پستول سے فائر کی گئی گولی کا خول ملا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی حکومت کا ڈاکٹر عافیہ کے خلاف فوجداری مقدمے میں موقف یہ ہے کہ انوں نے امریکی فوجی افسر کی ہی ایم فور رائفل سے امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ فائرنگ کی جس پر وہاں موجود امریکی فوجی افسر نے اپنی ایم نائین پستول سے جوابی فائر کیا تھا جس سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی زخمی ہوئیں تھیں۔
جمعہ کو ایف بی آئي کے معائنہ کار سے دوران جرح ڈاکٹر عافیہ کے وکیل چارلس سوئفٹ، جو کہ خود بھی امریکی بحری فوج میں رہ چکے ہیں، نے جب سوال کیا کہ کیا ان کے (حکومتی گواہ) دماغ میں ایسا کوئي شک ہے کہ نائین ایم ایم پستول سے فائر نہیں کیا گیا تو گواہ کا جواب نفی میں تھا۔
وکیلِ صفائی نے جب حکومتی گواہ سے سوال کیا کہ کیا ان کے ذہن میں شک ہے کہ ایم فور رائفل سے فائر کیا گیا تھا، جس کے جواب میں گواہ نے کہا کہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ فائر کیا گيا تھا کہ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالتی کارروائی میں وقفے کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عدالت موجود گیلری میں مقدمے کے مشاہدہ کاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام کے رحم کرنے کی پیروی میں انہوں نے (ڈاکٹر عافیہ نے) سب کو معاف کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ مجھے سزا دینا چاہتے ہیں اسی لیے مجھے میری گواہی کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پھر دہرایا کہ وہ افغانستان اور طالبان کے درمیاں ایک دن کے اندر امن قائم کرا سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ کی مخالف نہیں لیکن ان کے متعلق غلط باتیں بتائی گئی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو عدالت کے محافظ متصل کمرے میں لے گئے اور وہ مقدمے کی سماعت کے اختتام تک کمرہ عدالت میں واپس نہیں آئيں۔
اس سے قبل معروف امریکی یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ہووی نے حکومتی گواہ کے طور پیش ہوکر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ میں تعلیم کے بارے میں ان کی اسناد پیش کیں۔ برائنڈن یونیورسٹی کے رجسٹرار نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکہ میں تعلیم کی اسناد کی نقول کی تصدیق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے برائنڈن یونیورسٹی سے سنہ انیس سو اٹھانوے میں نیورو سائنس میں ماسٹر اور دو ہزار ایک میں پی ایچ ڈی کی تھی۔





















