عافیہ کیس:’فورینزک شواہد موجود نہیں‘

امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیخلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے دوران استغاثہ مبینہ آلہ جرم ایم فور رائفل پر عافیہ صدیقی کی انگلیوں کے نشانات سمیت فورینزک شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
عافیہ صدیقی کے وکلائے صفائی نے امریکی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے گواہوں پر دوران جرح عافیہ کے مقدمے کو ’امریکی کہانی‘ بتایا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کیخلاف مقدمہ بقول عافیہ کے وکلاء کے، امریکی فوجیوں اور ان کے افغان اتحادیوں کے درمیاں ’فرینڈلی فائر‘ کو چھپانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
تاہم استغاثہ نے کہا ہے کہ ’ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مقدمہ نہ امریکی کہانی ہے اور نہ افغان کہانی ہے بلکہ محض ایک ہی اسٹوری ہے‘۔
ادھر ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کے وکیل چارلس سوئفٹ نے عدالت کے جج رچرڈ برمین سے ان کی مؤکل کے مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے آنے والے لوگوں سے کمرہ عدالت میں داخلے کے لیے وفاقی مارشلز کی طرف سے ان کے شناختی کارڈ یا آئی ڈی کے کوائف نوٹ کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی کسی عدالت میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ مقدمے کی کارروائی دیکھنے کے لیے گیلری میں آنے والے لوگوں سے ان کے شناختی کوائف پوچھے جائيں۔
ڈاکٹر عافیہ کے وکیل چارلس سوئفٹ نے کہا کہ ایسی روش ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے منصفانہ اور آزادانہ ٹرائل یا مقدمے چلائے جانے کی حق کی خلاف ورزی ہے۔
جمعرات کی صبح جب ڈاکٹر عافیہ کیخلاف امریکی حکومت کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا تیسرا دن جیوری اور جج رچرڈ برمین کی سربراہی میں شروع ہوا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے وکلاء نے ایف بی آئی کے انگلیوں کے نشانات اور دیگر فورینزک گواہی کے ماہر فائیف پر جرح شروع کی۔
دورانِ جرح دفاع کے وکلاء نے ڈاکٹر عافیہ کیخلاف مقدمے میں بتائے جانے والے مبینہ آلہ جرم یعنی ایم فور رائفل پر ڈاکٹر عافیہ کے انگلیوں کے نشانات نہ ملنے کے بارے میں ایف بی آئی کے ماہر نے بتایا کہ ایف بی آئي کی لیبارٹری میں تمام تر تکنیکی طریقہ کار اور مطلوبہ کیمیکلز استعمال کرنے کے باوجود وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی انگلیوں کے نشانات نہیں ڈھونڈ سکے جبکہ دوران جرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاء کا موقف تھا کہ ان کی موکلہ نے مبینہ رائفل کو چھوا تک نہیں۔
ایک موقع پر دورانِ جرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کی وکیل ایلین شارپ نے ایف بی آئی کے ماہر کے بیان پر طنزیہ کہا کہ ’وہ رائفل جسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اٹھایا تھا پر انگلیوں کے نشانات گرم موسم میں تحلیل ہو گئے‘۔ دوران جرح ایف بی آئی کی ماہر گواہ اور جسمانی سائنسدان فائیف نے اپنا بیان دہرایا کہ ’اگرچہ رائفل پر انگلی کا ’فریکشن رج‘ کا ذرہ ملا ہے لیکن ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ کہا جاسکے کہ وہ نشان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استغاثہ نے عدالت میں اس ایم فور رائفل جسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے مبینہ طور پر اٹھارہ جولائی دو ہزار آٹھ کو غزنی میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے میں استعمال کیا تھا ثبوت کے طور پیش کی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاء نے رائفل ایف بی آئی کی لیبارٹری میں تاخیر سے پیش کرنے پر بھی حکومتی گواہ سے دوران جرح سوالات اٹھائے۔
افغانستان میں امریکی اڈے بگرام پر متعین سابق ایف بی آئی اسپیشل ایجنٹ کرلی گورڈن نے عدالت میں غزنی میں افغان نیشنل پولیس کے ہیڈ کوارٹر میں اس کمرے کی دیوراوں اور چھت کی کھدائي سے حاصل کیا ہوا ملبہ، امریکی فوجی افسر کی طرف سے مبینہ جوابی فائرنگ میں استعمال کیا ہوا نائن ایم ایم پستول، واقعے میں وہ پردہ جس کے پیچھے سے مبینہ طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے فائرنگ کی، قالین کے ٹکڑے، جائے وقوعہ کی دیوراوں سمیت افغان نیشنل صدر دفاتر کی عمارت کی تصاویر اور کمرے کی وڈیو او غزنی شہر کی تصاویر گواہی کے طور پر پیش کیں۔
تاہم حکومتی گواہ اسپیشل ایجنٹ کرلی گورڈن نے دوران جرح دفاع کے وکلاء کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیخلاف وہ کسی بھی قسم کی فورینزک گواہی اور ڈی این اے پیش نہیں کر سکے۔تاہم انہوں نے دفاع کی وکیل ڈان کارڈی کے ان سوالات کو درست تسلیم نہیں کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ اصل میں غزنی میں امریکی فوجوں اور اس کے افغان اتحادیوں کے درمیاں ’فرینڈلی فائر‘ کو کور کرنے کی مبینہ کوشش ہے اور امریکی حکومت ڈاکٹر عافیہ کیخلاف دنیا کو ’امریکی کہانی‘ پر ہی اعتبار کروانے پر تلی ہوئی ہے۔
اس سوال کے جواب میں گواہ اسپیشل ایجنٹ کرلی نے کہا کہ عافیہ صدیقی کيخلاف مقدمہ نہ امریکی کہانی ہے اور نہ ہی افغان کہانی بلکہ وہ ایک ہی کہانی ہے‘۔





















