ڈاکٹر عافیہ گواہ پر برس پڑیں

جج نے کارروائي سننے کے لیے آنے والوں سے شناختی کارڈ طلب کرنے کو قطعی مناسب قرار دیا اور کہا کہ پہلے ایسی مثالیں ملتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجج نے کارروائي سننے کے لیے آنے والوں سے شناختی کارڈ طلب کرنے کو قطعی مناسب قرار دیا اور کہا کہ پہلے ایسی مثالیں ملتی ہیں۔

امریکی فوج کے ایک چیف وارنٹ افسر نے پیر کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عافیہ صدیقی کو اپنے پستول سے اس وقت فائر کرکے زخمی کیا تھا جب وہ ان کی رائفل ان پر اور کمرے میں موجود افراد پر تانے ہوئے تھیں۔

اس پر کمرہ عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان پر فائرنگ انہوں نے نہیں بلکہ ایک اور افسر کیپٹن سنائيڈر نے کی تھی اور وہ کیوں ان کا الزام اپنے سر لے رہے ہیں؟

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف مبینہ جھوٹ بولنے پر امریکہ کا نام بین الاقوامی طور بدنام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے عدالتی کاروائي کے دوران اٹھ کر بولنے پر انکی نگرانی کرنے والے وفاقی مارشلز انہیں کمرہ عدالت سے متصل کمرے میں لے گئے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف افغانستان کے صوبہ غزنی میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے میں جس رائفل سے فائر کے الزمات لگائے گئے ہیں وہ مبینہ ایم فور رائفل انہی چیف ورانٹ افسر کی بتائي جاتی ہے۔

مقدمے میں امریکی حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ مذکورہ چیف وارنٹ آفسر نے اپنے نائن ایم ایم پستول سے عافیہ صدیقی پر جوابی فائر کیے تھے جس سے وہ زخمی ہوئي تھیں۔ چیف وارنٹ افسر نے کمرہ عدالت میں مبینہ ایم فور رائفل اور نائن ایم پستول سے اپنی اور ڈاکٹر عافیہ کی پوزیشن کا فرضی مظاہرہ بھی کیا۔

پیر کے روز جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کیطرف سے قائم فوجداری مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا تو حکومتی گواہ کے طور پر مبینہ واقعے کے وقت افغانستان میں متعین چیف وارنٹ افسر گواہی کے لیے پیش ہوئے۔ باوردی اور کئي تمغے سینے پر سجائے امریکی فوج کے اسپیشل فورسز کے افسر (جنکا نام پوشید رکھا گيا ہے) عراق اور افغانستان میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ اپنی ایک ٹانگ کی معذوری کیساتھ عدالت میں آئے۔ انکی گواہی کے دوران جب ان کی پیشہ وارانہ قابلیت اور تجربات کے بارے میں سوالات کے دوران استغاثہ کے وکیل نے ان سے پوچھا کہ وہ کب اور کہاں اور کیسے زخمی ہوئے تھے؟ تو امریکی فوج کے چیف وارنٹ افسر ایک اور علیحدہ واقعے میں ستمبر دو ہزار نو میں افغانستان میں سڑک پر رکھے ایک بم حملے کے دوران اپنے تین ساتھیوں کی ہلاکت اورا پنے زخمی ہونے کا ذکر کرنے لگے تو عدالت میں رونے لگے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کھڑے ہوکر ان سے مخاطب ہوکر کہنے لگي کہ ’افسر آپ کے ساتھ جو ہوا اس پر مجھے افسوس ہے لیکن آپ دوسرے کا الزام اپنے سر مت لیں۔ مجھے گولی آپ نے نہیں کیپٹن سنائیڈر نے ماری تھی۔‘

ڈاکٹر عافیہ کے ایسے ردعمل پر جج رچرڈ برمین نے مارشلز سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت سے نکال کر لے جانے کو کہا اور عدالت کچھ وقت کے وقفے کے لیے برخواست کرلی۔

دوران وقفہ جج اپنے دفتر میں جیوری کے سولہ اراکین کو انفرادی طور طلب کرتے رہے۔ وقفہ کے بعد کمرہ عدالت میں جج نے بتایا کہ جیوری کے دو راکین کو فارغ کردیا گیا ہے کیونکہ ان سے سامعین میں سے کسی نے رابطہ کیا تھا۔ وقفہ ختم ہونے پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پھر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔

گواہ چيف سکیورٹی افسر پر دفاع کے وکیل چارلس سوئفٹ نے جرح کے دوران جب یہ پوچھا کہ انہوں نے اپنی گواہی میں تو یہ کہا ہے کہ واقعے والے دن اٹھارہ جولائي دو ہزار آٹھ کو انہوں نے جب دیکھا کہ عافیہ صدیقی انکی (چيف وارنٹ افسر کی ) ایم فور رائفل انکی اور کمرے میں موجود افراد کی طرف تانے کھڑی ہے تو انہوں نے اپنے پستول سے فائر کیے۔ لیکن واقعے کے بعد انہوں نے اپنی حلفیہ آپریشنل رپورٹ میں اور کچھ دن بعد ایف بی آئي کو اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ جب خاتون (عافیہ صدیقی) انکے پاؤں کے پاس پڑي انکی رائفل کو پکڑنے لگي تو انہوں نے ان پر اپنے نائن ایم ایم پستول سے فائر کردیا۔ دفاع کے وکیل کیطرف سے ایسے بیانات عدالت میں دکھائے جانے پر گواہ چیف وارنٹ افسر نے مانا کہ انہوں نے اس وقت ایسے بیانات دیے تھے۔ اس پر پھر عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عدالت کی کارروائي کے دوران گواہ سے براہ راست مخاطب ہوتے کہا کہ ان پر گولی کیپٹن سنائیڈر نے چلائي تھی جس پر جج نے وفاقی مارشلز کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت سے نکال لے جانے کو کہا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے ایک وکیل لنڈا مرینو نے وفاقی مارشلز کیطرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جسمانی طور زبردستی عدالت سے لے جانے کيخلاف عدالت کو درخواست دی اور کہا کہ عدالت میں امریکی مارشلز کا ڈاکٹر عافیہ کیساتھ ایسا سلوک انکے شفاف اور منصفانہ مقدمے کے حق کی خلاف ورزي ہے جسے عدالت اختتام کارروائي پر جج نے مسترد کردیا۔

جج نے اپنی رولنگ میں کہا کہ جس طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیوری کے انتخاب سے پہلے اور جیوری کے انتخاب کے بعد اور دوران مقدمہ کارروائي میں اپنے برسنے کے ذریعے خلل ڈالتی رہی ہیں اس حوالے سے مارشلز کے عدالت کی سکیورٹی برقرار رکھنے کے انتظامات کے سسلے میں قطعی اقدام غلط نہیں۔ جج نے دفاع کے وکلا کی طرف سے مارشلز کے کمرہ عدالت کے دروازے پر مزید حفاظتی اقدامات جن میں کارروائي سننے کے لیے آنے والوں سے شناختی کارڈ طلب کرنے کو بھی قطعی مناسب قرار دیتے ہوئے کہا اس کی پہلے مثالیں مقدمات میں ملتی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اپنی گواہی کے دوران امریکی فوج کے افسر کیپٹن سنائیڈر کہہ چکے ہیں کہ جسطرح چیف وارنٹ افسر نے غزنی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی تحقیقات والے مشن کو برتا اس پر نہ فقط انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا بلکہ انہوں نے چیف وارنٹ افسر کو دیئے جانے والے سلور میڈل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جب دفاع کے وکیل نے چیف وارنٹ افسر سے پوچھا کہ واقعے کے بعد کیا ان سے کیپٹن سنائیڈر خفا تھے تو انہوں نے کہا کہ 'ہوسکتے ہیں۔لیکن مجھے نہیں معلوم'۔

پیر کے روز عدالت میں ڈاکٹر عافیہ کے افغانستان میں مبینہ طور زخمی ہونے پر فوری طبی امداد پہنچانے والی امریکی فوج کی خاتون میڈک (میڈیکل کارکن) بھی حکومت کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئي اور کہا کہ انہوں نے عافیہ کو ان پر بندوق تانے دیکھا تھا اور چیف وارنٹ افسر نے مبینہ طور عافیہ فائر کیے تھے جس سے انکے پیٹ کے دائيں طرف زخم پہنچا تھا جس کا انہوں نے علاج کیا تھا۔ دوران جرح انہوں نے کہا کہ انہیں ڈاکٹر عافیہ کے خلاف غصہ تھا کیونکہ اس پر انہوں نے گولی چلائی تھی اور پھر بھی امریکی انکا علاج کر رہے تھے۔

عدالت میں ایک اور حکومتی گواہ اسپیشل ایجنٹ ایرک مگران کا بیان جاری تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کی ہر روز کی جانیوالی سماعت عدالت کا وقت ختم ہونے پر منگل کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔