عراق میں متعدد دھماکے, 127 ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار کار بم دھماکوں ميں ہلاک ہونے والی کی تعداد 127 ہو گئی ہے۔ بغداد شہر کے مرکز میں ہونے والے ان دھماکوں ميں 448 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پہلا دھماکہ شہر کے ڈورا ضلع میں ہوا ہے جس میں پولیس کے وفد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس دھماکے کے فورا بعد ہی اسی علاقے میں دیگر چار دھماکے ہوئے۔ یہ سبھی دھماکے سرکاری عمارتوں کے قریب ہوئے ہیں۔
عراق کی قومی سکیورٹی کے مشیر موافق الرباعی نے ان دھماکوں کے لیے القاعدہ کو ذمےدار ٹھرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا ' ان دنوں القاعدہ بغداد میں جڑیں پکڑتی جا رہی ہے۔'
انہوں نے مزید کہا' ان حملوں کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ حکومت عوام کو حفاظت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ان کا ایک مقصد لوگوں کو ووٹنگ سے دور کرنے کا بھی تھا۔'
اکتوبر میں اسی قسم کے منظم طریقے سے کیے گئے دھماکوں ميں کم از کم 155 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
حالانکہ عراق کی حکومت کے مطابق گذشتہ اٹھارہ مہینوں ميں یہاں ہونے والے تشدد کے واقعات ميں کمی درج کی گئی ہے۔
لیکن منگل کو ہونے والے دھماکوں نے شہر کی تمام عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
منگل کو جن سرکاری عمارتوں کے قریب دھماکے ہوئے ہیں ان میں وازرت داخلہ، سماجی امور کی وزارت، ایک یونیورسٹی اور انسٹیٹیو آف فائن آرٹس شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















