گوگل سائبر حملے، چینی جامعہ کا انکار
چین کے دو اعلی تعلیمی اداروں نے حالیہ دنوں ميں گوگل کی انٹر نیٹ سروس پر ہونے والے سائبر حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ سائبر حملوں کے تار شنگھائی کے جیاتاؤنگ یونیورسٹی اور لین ژیانگ ووکیشنل سکول سے جڑے ہوئے ہیں۔
شنگھائی جیا تاؤنگ یونیورسٹی کے ترجمان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان الزامات کو سننے کے بعد حیرت ميں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ اس ان الزامات کے سبب یونیورسٹی کی ساکھ کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
وہیں دوسرے تعلیمی ادارے لین ژیانگ سکول پر عائد اسی قسم کے الزامات کے بارے میں کمیونسٹ پارٹی کے سیئنر اہلکار نے چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ تحقیقات کے بعد اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ سائبر حملے اس ادارے سے شروع ہوئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس قسم کے انکار متوقع تھے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر رپورٹ میں کہی گئی بات صحیح بھی ہے کہ سائبر حملوں کے لیے ذمےدار کمپیوٹر کا تعلق ان اداروں سے ہے ، تو یہ کئی قسم کے سوالات پیدا کرتے ہیں، پہلا یہ کہ کیا ان حملوں میں حکام بھی ملوث تھا اور یا پھر انہیں اس بات کی اطلاع تھی کہ ان حملوں کے لیے ادارے کے کمپیوٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
وہيں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طلبہ خود ان حملوں کی تیاری کر رہے تھے یا پھر انہيں اساتذہ کی جانب سے مدد فراہم کی جا رہی تھی۔



