انٹرنیٹ کی نگرانی قانون کے تحت: چین

چین نے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح چین بھی قوانین کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ بات وزارت خارجہ کی ترجمان نے جمعرات کے روز کہی۔
یاد رہے کہ انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے کہا ہے کہ وہ اپنے چائنز سرچ انجن کو چینی قوانین کے تحت سنسر کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔
اس فیصلے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کو چین میں اپنے آپریشنز بند کرنا پڑ سکتے ہیں۔
تاہم چین نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غیر ملک انٹرنیٹ کمپنیوں کو چین میں کام کرنے کی اجازت ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح چین بھی قوانین کے تحت انٹرنیٹ کی نگرانی کرتا ہے۔ ’چین میں انٹرنیٹ میں سرمایہ کاری کی اجازت ہے اور چینی حکومت اس صنعت کی ترقی کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
گوگل نے چین کی حکومت پر سائبر حملوں کا الزام نہیں عائد کیا ہے لیکن کہا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ انسانی حقوق کے کارکن ہیں جن کی ای میل کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
گوگل نے 2006 میں چینی حکومت کے دباؤ کے تحت اپنے سرچ انجن کو سنسر کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کی وجہ سے اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انٹرنیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر گوگل چائنز سرچ انجن ’گوگل ڈاٹ سی این‘ کو سنسر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہا تو اسے شاید چین میں اپنی سروس بند کرنی پڑے گی۔گوگل کے فیصلے کے بعد نیویارک سٹاکس میں گوگل کے شیئر ایک فیصد گرگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ گوگل کے الزامات بہت سنجیدہ ہیں اور امریکی حکومت چینی حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے۔
شنگھائی میں بی بی سی نیوز کے نمائندے کرس ہاگ کا کہنا ہے کہ گوگل کی طرف سے حکام سے بات کرنے سے پہلے ہی کھلے عام اپنی سروس بند کرنے کے فیصلے سے چینی اہلکار یقیناً غصے میں ہوں گے۔
گوگل کے چیف لیگل افسر ڈیوڈ ڈرمنڈ کا کہنا ہے کہ سائبر حملہ آوروں کا اولین نشانہ چین کےانسانی حقوق کے کارکنوں کے جی میل اکاونٹ ہیں۔گوگل کے سرچ انجن کی چین میں مالیت ایک ارب ڈالر ہے۔
گوگل کے پاس چینی سرچ انجن کی مارکیٹ کا چھبیس فیصد حصہ ہے جبکہ چین میں بیدو سرچ انجن سب سے مقبول ہے اور مارکیٹ کا حصہ ساٹھ فیصد اس کے پاس ہے۔ چینی مارکیٹ میں یاہو کا حصہ صرف دس فیصد ہے۔





















