نیٹو کی افغانوں کو یقین دہانی

نیٹو نے افغانوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ولندیزی فوجوں کی واپسی کے باوجود وہ ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
ہالینڈ میں حکومت کی تبدیلی کے باعث اس کی کی فوج کی کی افغانستان میں موجودگی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں کے درمیان افغانستان میں تعینات اس کے دو ہزار فوجیوں کی مدت میں اضافے کے سوال پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ یہ دونوں جماعتیں معاملہ حل کرنے میں ناکام رہیں۔
نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ افغانستان کے لوگوں کی ہر حال میں حمایت جاری رکھیں گے۔ اس سے قبل افغانستان کے صوبے اردگان کےگورنر اسد اللہ ہمدم نے کہا تھا کہ اگر ہالینڈ کے فوجی واپس چلے گئے تو امن اور تعمیرِ نو کی کوششوں کو بڑا دھچکہ لگے گا۔
اردگان میں ہالینڈ کی فوج تعینات ہے اور فوجیوں کی واپسی یا ان کی تعیناتی کی مدت میں اضافہ کرنے کے مسئلہ پر حکومتی اتحاد کے ٹوٹ جانے کے بعد ڈچ حکومت گر گئی ہے۔ ڈچ فوجیوں کو اس سال اگست میں افغانستان سے واپس جانا ہے تاہم نیٹو کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ ہالینڈ اپنی فوجیوں کی افغانستان میں تعیناتی کو کم از کم اگست دو ہزار گیارہ تک بڑھا دے۔
گورنر اسد اللہ ہمدم نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے کے بعد سڑکوں کی تعمیر، افغان پولیس کی تربیت اور شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا بڑا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام چاہتے ہیں کہ ڈچ فوجی اپنا مشن جاری رکھیں اور ان کے کام کو بہت سراہا گیا ہے۔
ہالینڈ کی حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتیں افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسئلہ پر پائے جانے والے اختلاف کو دور نہیں کر سکیں اور حکومت سے علیحدہ ہو گئیں۔
کرسچن ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نیٹو کی طرف سے کی گئی اس درخواست پر غور کر رہے تھے کہ ہالینڈ کے فوجیوں کی افغانستان کی تعیناتی کی مدت کو بڑھا دیا جائے۔تاہم حکومت میں شامل لیبر پارٹی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔
حکومت ختم ہونے کا اعلان گزشتہ رات سولہ گھنٹے تک جاری رہنے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دونوں جماعتیں اس مسئلہ پر متفق نہیں ہو سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہالینڈ کے تقریباً دو ہزار فوجی افغانستان کے جنوبی صوبے اردگان میں سن دو ہزار چھ سے تعینات ہیں جن میں اب تک بارہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہالینڈ کے فوجیوں کو اس سال کے آخر میں افغانستان سے واپس بلایا جانا ہے۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی منظور کر رکھی ہے لیکن حکومت نے اس قرار داد کی توثیق نہیں کی ہے۔
ان فوجیوں کی افغانستان سے واپسی پہلے ہی دو مرتبہ مؤخر کی جا چکی ہے۔ ان فوجیوں کو سن دو ہزار آٹھ میں واپس بلایا جانا تھا لیکن نیٹو میں شامل کسی دوسرے ملک کی طرف سے ان کے متبادل دستے فراہم کرنے سے انکار کے بعد ان کی افغانستان میں تعیناتی کی مدت میں اضافہ کر دیا گیا۔
افغانستان میں جون سن دو ہزار نو میں بیالیس ملکوں کے اکسٹھ ہزار فوجی تعینات تھے۔





















