’مرجہ آپریشن طویل کارروائی کا نقطۂ آغاز‘

افغانستان میں غیر ملکی فوجی

افغانستان میں امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پٹریس نے کہا ہے کہ جنوبی افغانستان میں مرجہ میں فوجی کارروائی ایک طویل مہم کا پہلا حصہ ہے۔

جنرل ڈیوڈ پٹریس نے این بی سی کو بتایا کہ موجودہ کارروائی مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیے وضع کی گئی حکمت عملی کا حصہ ہے جو بارہ سے اٹھارہ ماہ تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو اس کارروائی میں مزید نقصان کے لیے تیار رہنا ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے عراق میں امریکی فوج میں اضافے کے بعد ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن مشترک کے خلاف جو اب دوسرے ہفتے میں ہے طالبان کی مزاحمت زبردست لیکن غیر منظم رہی ہے۔

نیٹو کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ مرجہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔ افغان پولیس کے اہلکاروں کو طالبان کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس علاقے کو مقامی حکام کے حوالے کیا جانا ہے۔

آپریشن مشترک شروع ہونے کے بعد بارہ نیٹو اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ کارروائی میں پندرہ ہزار نیٹو اور افغان اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کارروائی سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سب سے بڑی کارروائی ہے۔

جنرل پٹریس نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ یہ مشکل ہے، لیکن ہم انتہائی مقصد کے لیے وہاں موجود ہیں‘۔