واشنگٹن ڈائری
- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
تارکینِ وطن کی مشکل

دو ہفتے قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا کے کچھ سفید فام نسل پرستوں نے نازی نشانات ہاتھ میں تھامے مظاہرہ کیا اور ان کے سامنے نازی اور نسل پرست نظریات کے مخالفین نے بھی نئے نازیوں کے خلاف احتجاج کے جھنڈے بلند کیے۔
لیکن گزشتہ ہفتے ریاست ایریزونا نے تو حد کردی۔ ریاست کے ریپبلکن گورنر نے ایک ایسے ریاستی قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت پولیس اگر کسی شخص کو کسی شک یا نامناسب حرکت پر روکتی ہے تو پولیس کو اس شخص سے اس کے امیگریشن سٹیٹس کے بارے میں بھی پوچھنا ہوگا یعنی اس سے پوچھا جائے گا کہ وہ امریکہ میں قانونی طور پر موجود ہے یا غیرقانونی طور پر۔
اس قانون پر ملک میں تارکین وطن کے مسئلے پر بحث شروع ہوگئی ہے اور صدر براک اوباما نے ایریزونا کے نئے قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی بنیاد غلط تصور پر مبنی ہے۔

ایریزونا ریاست میکسیکو کی سرحد پر واقع ہے اور میکسیکو سے امریکہ آنے والے غیر قانونی تارکین وطن اکثر اسی ریاست سے داخل ہوتے ہیں۔ اس قانون کے حامی ریپبلکن کہتے ہیں کہ ملک کے مفادات کے لیے اس طرح کے قوانین ضروری ہیں تاکہ امریکہ میں آنے والے غیرقانونی لوگوں کو روکا جائے۔
لیکن قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست میں رہنے والی تمام ہسپانوی بولنے والی آبادی مشکوک ہوکر رہ جائے گی اور امریکی نظام انصاف کی جو بنیاد ہے یعنی ’ایک شخص اس وقت تک معصوم ہے جب تک مجرم ثابت نہ ہوجائے‘بدل کر رہ جائے گی۔
صدر اوباما نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے محکمہ انصاف سے کہ رہے ہیں کہ وہ اس نئے قانون کا جائزہ لیں کہ آیا یہ ملک کے آئین سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
امریکہ کی کل آبادی کا پندرہ فیصد ہسپانوی بولنے والے ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا اقلیتی نسلی گروپ ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں اکہتر فیصد ہسپانویوں نے صدر اوباما کو ووٹ دیے تھے اور ان کے ووٹ کسی بھی انتخاب میں انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔
مالیاتی اصلاحات

صدر اوباما کی انتضامیہ کی جانب سے مالیاتی اداروں کی اصلاحات اور سخت قوانین کا نفاذ گزشتہ ہفتے امریکہ کا اہم موضوع رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
براک اوباما نے امریکی تجارت کے مرکز وال سٹریٹ پر سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے سربراہان کو خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں امریکہ سخت اقدامات متعارف کرائے گا تاکہ زیادہ منافع کے چکر میں بینک اور مالیاتی ادارے اس طرح کے فیصلے نہ کر سکیں جو عالمی معیشت کو تباہ کرنے کا سبب بن جائیں۔
اوباما نے کہا تھا کہ نئے قوانین کے تحت اگر معاشی صورتحال خراب ہوگی تو اس کو سہارا بھی بینکوں اور ان اداروں کو دینا ہوگا نہ کہ عوام اور حکومت کو جیسا کہ دوہزار نو میں کیا گیا تھا۔
امریکی انتظامیہ نے ملکی اور بین الاقوامی معیشت کو مکمل تباہی ہے بچانے کے لیے سات ارب ڈالر سے زائد کی سرکاری رقم ملکی معیشت اور مالیاتی اداروں میں ڈالی تھی۔ صدر اوباما کا ماننا ہے کہ اس اقدام کی وجہ ہے ہی امریکہ اور عالمی معیشت کو کساد بازاری سے نکالنے میں مدد مل سکی ہے۔
واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بھی سالانہ اجلاس ہوئے اس کے علاوہ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کے وزرائے مالیات کا ایک اجلاس بھی ہوا جس پر امریکہ نے زور دیا ہے کہ یہ تمام ممالک بھی اسی نوعیت کے سخت مالیاتی قوانین اپنے ملکوں میں نافذ کریں جس طرح کے امریکہ میں متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر اوباما کی ان اصلاحات کو ابھی تک کانگریس سے منظوری نہیں ملی اور ریپبلکن پارٹی ان اصلاحات کی منظوری میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ ریپبلکن کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کی وجہ ہے ملک کی ترقی متاثر ہوگی اور سرمایہ دار سرمایہ کاری سے کترائیں گے۔
پاک امریکہ تجارتی اجلاس

گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں پاک امریکہ تجارتی اور سرمایہ کاری فریم ورک معاہدے یعنی ٹی آئی ایف اے کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری کاؤنسل کا سالانہ اجلاس ہوا۔
اس اجلاس میں ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا گیا کہ امریکی اور مغربی ممالک کی مارکیٹوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں امریکہ مدد کرے گا اور پاکستان کے شدت پسندی سے متاثرہ پسماندہ علاقوں پر مشتمل ریکنسٹرکشن آپرچونٹی زون یا آر او زیڈ کے بل کی منظوری کے لیے امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
اس اجلاس میں پاکستان کے وفد کی نمائندگی کی پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر مالیات اور سرمایہ کاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کی جب کہ امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے تجارتی نمائندے رون کرک نے کی۔
پاکستان کوشش کرتا رہا ہے کہ اس کی مصنوعات کو امریکی اور یورپی منڈیوں تک رسائی دی جائے اور امریکہ کی طرف سے اس کے تشدد سے متاثرہ قبائلی اور صوبہ سرحد کے علاقوں کے علاوہ بلوچستان نے بعض علاقوں کو آراو زیڈ میں شامل کیا جائے۔
لیکن اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی قانون سازی کی ضرورت ہے جو اب تک پاکستان کو یہ حیثیت دینے میں لیت ولال سے کام لے رہی ہے۔
امریکہ کی طرف سے جن علاقوں کو آر او زیڈ میں شامل کیا جاتا ہے ان علاقوں سے ہونے والی برآمدات پر امریکہ سیلز ٹیکس عائد نہیں کرتا جس کی وجہ سے ان علاقوں کی مصنوعات کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
دیگر معالات کے علاوہ پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے قوانین بھی اس امریکی قانون سازی میں رکاوٹ ہیں اور گزشتہ ہفتے کے اجلاس میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی پر بھی توجہ دے گا۔
پاکستان کے مشیر مالیات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اجلاس کے بعد بتایا کہ قانون سازی کا عمل ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں وقت لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان کے حالات کی وجہ ہے وہاں کی تجارت پر ہونے والے منفی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ نے ہر طرح مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔





















