’طالبان کے خلاف مل کر لڑتے رہیں گے‘
افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے القاعدہ، طالبان اور شدت پسندی کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس بات کا اعلان حامد کرزئی کے چار روزہ دورۂ امریکہ کے پہلے دن امریکی وزیر خارجہ اور افغان صدر کے مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے
خیال رہے کہ حالیہ ماہ میں امریکہ اور افغانستان کے تعلقات میں کھنچاؤ دیکھا گیا ہے اور دونوں ملک افغانستان کے حالیہ انتخابات میں دھاندلی، افغانستان میں حکمت عملی اور بدعنوانی کے معاملات پر ایک دوسرے پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔
منگل کو دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے اپنے اختلافات کو دو سنجیدہ جمہوری ممالک کے درمیان بحث مباحثے سے تعبیر کیا۔
مذاکرات کے آغاز پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’ہمارے درمیان بعض معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم ہمارے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس سے ہمارے درمیان اعتماد واضع ہوتا ہے جو بامقصد گفتگو اور مضبوط سٹریٹجک پارٹنرشپ کے لیے بہت ضروری ہے‘۔
حامد کرزئی نے اس موقع پر کہا کہ ’جس طرح دو سنجیدہ ممالک اور حکومتوں کے درمیان اختلاف رائے ہوتا ہے اسی طرح ہمارے درمیان بھی کبھی کبھی اختلاف رائے ہوتا ہے‘۔
واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق ان بیانات کے باوجود امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات بظاہر انتہائی کشیدہ ہیں اور اور امریکہ کا صدر کرزئی کی اہلیت پر سے اعتبار قطعی طور پر اٹھ گیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما اگلے برس جولائی سے امریکی افواج کا انخلا شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن صدر کرزئی ابھی اس قابل نہیں ہوسکے کہ وہ امریکی فوج کی مدد کے بغیر وہاں حالات پر قابو پاسکیں۔ کرزئی چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کم از کم مزید پانچ برس تک افغانستان میں موجود رہے۔
اس وقت اٹھہتر ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں جس میں صدر اوباما اضافہ کررہے ہیں تاکہ القاعدہ اور طالبان کا ان علاقوں سے صفایا کیا جاسکے جہاں اس وقت ان کا کنٹرول ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدعنوانی کے معاملے پر بھی دونوں حکومتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن صدر اوباما نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے سے فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے اس لیے تمام امریکی اہلکاروں نے اس پر بات کرنا بند کر دی ہے۔
بدھ کو صدر اوباما افغان رہنما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں خیال ہے کہ افغان فورسز کی کارکردگی اور ان کی ملکی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے اہلیت پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی اہلکار اب کہہ رہے ہیں کہ کہ افغانوں کو ذمہ داریاں منتقل کرنے کی رفتار سست رہی ہے اس لیے توقع ہے کہ امریکی اور نیٹو کی افواج کو ابھی کئی برس تک افغانستان میں رہنا ہوگا۔





















