کرزئی کے اقدامات کی حمایت
- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
صدر اوباما نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حتمی حل ثابت نہیں ہوسکتی امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ان اقدامات کی حمایت کی ہے جن کے تحت وہ ایسے طالبان کو حکومت میں شامل کرسکتے ہیں جو القائدہ سے اپنے رابطے ختم کرکے، تشدد کی راہ ترک کردیں گے۔
براک اوباما نے یہ بات صدر حامد کرزئی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ افغان صدر ان دنوں امریکہ کے چار روزہ دورے پر ہیں جس میں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل مک کرسٹل، پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی اور دیگر اہلکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
امریکہ کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں نئی پالیسی کے اعلان کے بعد، صدر کرزئی نے ایسے افغان جنگجوؤں کے ساتھ رابطے شروع کئے تھے جو معمول کی زندگی میں واپس آنا چاہتے ہوں۔ صدر اوباما نے کہا کہ وہ ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں افغان صدر نے ایک امن جرگہ بھی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ایسے طالبان کو دعوت دی جائے گی جو امن کی راہ لیں گے۔
صدر اوباما نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حتمی حل ثابت نہیں ہوسکتی اور آخر میں سیاسی تصفیہ ہی کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے افغان رہنما کو افغانستان کے استحکام، امن، ترقی اور خوشحالی کے سلسے میں امریکہ کی بھرپور مدد جاری رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے افغانستان میں حالیہ برسوں میں ہونے والی ترقی کا ذکر کیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان کو شدت پسندی، غربت، بےروزگار اور ناخواندگی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنہ ہے۔
اوباما نے کہا کہ افغانستان کا ان مسائیل پر قابو پانے یا نہ پانے کے امریکہ اور پوری دنیا پر اثر ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں موجود شدت پسند اب بھی منصوبے بنا رہے ہیں۔
صدر اوباما کہ رہے تھے کہ آج ہم نے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور اس کے شدت پسند اتحادیوں کو روکنے، تباہ کرنے اور شکست دینے کے اپنے مشترکہ مقاصد کا ایک مرتبہ پھر عزم کیا ہے۔ ان کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مستقبل میں حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کا بھی تہیہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد میں جو اضافہ کیا ہے اس سے طالبان کئی علاقوں میں پسپا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے استحام کے لئے پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا کیونکہ ان کی حکمت عملی اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب وہ سرحد کی دونوں جانب کامیاب ہو۔
براک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے سلسلے میں تمام ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ افغان فورسز کی تربیت کا کام بھی جاری ہے تاکہ وہ اگلے برس سے سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا کام شروع کریں۔
اوباما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماضی میں پاکستان کو صرف انڈیا سے تشویش تھی لیکن اب ان کو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ ان کے اندر شدت پسندی کا سرطان موجود ہے جس سے ان کے اپنے اقتدار اعلیٰ کو خطرہ ہے۔
’ہمارا مقصد ہے کہ پرانی تشویشوں اور پرانی بری عادتوں کو ختم کروائیں اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ملکر کام کریں تاکہ ان کو احساس ہوجائے کہ ان کا مفاد مستحکم افغانستان میں ہے جس میں کوئی دخل اندازی نہیں کر رہا اور افغانستان، پاکستان، اقوام متحدہ امریکہ سب ملکر کام کریں تاکہ اس خطے سے شدت پسندی کا خاتمہ کیا جاسکے۔’
صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر امریکی صدر کی حمایت اور مدد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بہت جلد افغانستان میں موجود ان جیلوں کے انتظامات بھی افغان حکومت کو منتقل کردئے جائیں گے جو اس وقت امریکیوں کے ہاتھ میں ہیں۔
حامد کرزئی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان کی تعمیر نو اور امن کے لئے امریکی عوام اور افواج نے جو قربانیاں دی ہیں، افغان عوام اس کے لئے امریکی عوام کے دل سے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کوتاہیاں ہیں لیکن وہ اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ اچھی حکومت کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے تاک آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور مضبوط اور خوشحال افغانستان منتقل کیا جاسکے۔
افغانستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر اوباما نے کہا کہ اختلاف رائے کو میڈیا میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
حامد کرزئی نے بھی ان اختلافات کی اہمیت کم بتائی۔ انہوں نے کہا، ’بلاشبہ ایسے دن آئے ہیں جب ہمارے درمیان اختلاف رائے رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے دن آئیں گے جب ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوگا۔ لیکن دو حکومتوں اور دو قوموں کے درمیان تعلقات کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور انہوں نے گزشتہ دس برس میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔‘





















