’تیل کمپنیاں حادثے کی صورت میں تیار نہیں‘
امریکی کانگریس کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بڑی تیل کی کمپنیاں جو امریکہ میں تیل نکالنے کے کام میں ملوث ہیں وہ تیل کے رسنے کو روکنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔

ایڈورڈ مارکی نے انرجی اور تجارت کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ ایگزون موبل، شیورون، کونوکو فلپس اور شیل کی بھی تیل رسنے کی صورت میں وہی حکمت عملی ہے جو کہ برٹش پیٹرولیئم کی ہے۔
کانگریس میں سماعت کو شروع کرتے ہوئے انرجی کمیٹی کے جوائنٹ چیئرمین ہینری ویکس نے کہا کہ بڑی تیل کی کمپنیاں اتنی ہی تیار ہیں کسی قسم کے حادثے پر قابو پانے کے لیے جتنی کہ برٹش پیٹرولیئم تھی۔
انہوں نے پانچ بڑی کمپنیوں کی تیاری کو ’کاغذی کارروائی" کہا اور کہا کہ ’بی پی بری طرح ناکام ہوئئ جب اصل میں واقعہ پیش آیا اور ہمیں اس بات پر سوچنا پڑتا ہے کہ آیا دیگر تیل کی کمپنیاں بی پی سے بہتر طور پر حادثے پر قابو پانے کی اہل ہیں یا نہیں۔‘
بڑی تیل کمپنیوں کے سربراہان کو بھی اس سماعت میں بلایا گیا تھا جنہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ان کی کمپنیاں سیفٹی پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔
ایگزون موبل کے سربراہ ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا ’ہم کوئی کام اس وقت تک نہیں کرتے جب تک کہ ہم اس کو محفوظ طریقے سے نہ کرسکیں۔‘
اگرچہ منگل کو ہونے والی کانگریس کی سماعت سمندر کی تہہ میں تیل نکالنا تھا لیکن برٹش پیٹرولیئم کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ہیورڈ جمعرات کو کانگریس کے سامنے سمندر کی تہہ میں تیل نکالنے اور حادثات کے حوالے سے دوبارہ پیش ہوں گے۔
امریکی صدر براک اوباما آج ٹی وی پر خطاب کریں گے جس میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس تیل کے سرنے کے حوالے سے اقدامات لیے جانے کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں گے۔

















