افغانستان: امداد میں بڑا اضافہ متوقع

برطانوی حکومت افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا عمل تیز کرنے کی کوشش میں افغانستان کو دی جانے والی امداد میں چالیس فیصد اضافہ کرنے والی ہے۔
برطانیہ میں عالمی ترقی کے وزیر اینڈریو میچل نے کہا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے قیام کی کوششوں میں اقتصادی امداد کا اہم کردار ہے۔
انکا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت پہلے ہی آئندہ پانچ برسوں میں افغانستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پچاس کروڑ پاؤنڈ خرچ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔
دریں اثنا وزیر دفاع لیم فوکس نے ایک بار کہا ہے کہ سنہ دو ہزار چودہ تک افغانستان سے جنگ میں مصروف برطانوی فوج کو واپس بلا لیا جائے گا۔
فی الوقت برطانیہ نوے ممالک کو اقتصادی امداد فراہم کرتا ہے لیکن اینڈریو میچل کہہ چکے ہیں کہ نئی حکومت کی جانب سے حالیہ اقتصادی جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چین اور روس کو اس طرح کی امداد نہیں دی جائے گی۔
کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کو جو امداد دی جائے گی اس کا استمعال ملک کے سب سے غیر محفوظ علاقوں میں حالات بہتر کرنے کے لیے کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ ان کا مقصد ہے کہ آئندہ دو برسوں میں افغانستان کے ساٹھ لاکھ بچوں کے نام سکول میں درج کرائے جائیں اور اس رقم کا ایک اہم حصہ تعلیم کے فروغ پر خرچ کیا جائے۔
انہوں نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں بتایا کہ حکومت اس بات پر خاص دھیان دے رہی ہے کہ یہ امدادی رقم کس طرح اور کیسے خرچ ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ُادھرحزب اختلاف نے اینڈریو میچل سے کہا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ اس امدادی رقم کو کس طرح خرچ کیا جائے گا۔
حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شورش زدہ علاقوں میں پیسے کی کمی نہیں بلکہ کی سکیورٹی کی کمی کی وجہ سے حالات خراب ہیں۔
ایسا بھی کہا جا رہا ہے کہ رواں ماہ کی بیس تاریخ کو افغانستان میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی عالمی فوج کے دو ہزار چودہ تک ہٹانے کے منصوبے کا ایک خاکہ پیش کریں گے۔





















