فیصل شہزاد اور جج میں مکالمہ

فیصل شہزاد عدالت میں(خاکہ)
،تصویر کا کیپشنفیصل شہزاد نے قیدیوں والا نیلے رنگ کا جمپ سوٹ اور سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی

اگرانتہا پسندی کا تعلق غربت اور فلاس سے ہے تو ان چیزوں میں سے کسی کا بھی دور تک تعل‍ق پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد سے نہیں لگتا تھا۔

فیصل شہزاد کو منگل کی صبح نیویارک کے علاقے منہیٹن میں امریکی وفاقی عدالت نے نیویارک کے مشہور و مصروف ترین ٹائمز سکوائر پر حملے کے لیے اپنی وین میں بم رکھنے کے الزام میں چھ بار تا عمر قید کی سزا سنائی جو متواتر دن رات یعنی ’کنکرنٹ‘ جاری رہے گی۔

منگل کی صبح جب ٹائمز سکوائر پر بم نصب کرنے کی ناکام کوشش کا اعتراف کرنے والے فیصل شہزاد کو سزا سنائے جانے والی سماعت کے لیے وفاقی مارشلوں نے جج مریم گولڈبرگ سیڈاربم کی عدالت میں پیش کیا تو کمرہ عدالت اور اس سے باہر ہرطرف وفاقی مارشل متعین تھے۔

جیل کے نیلے رنگ کے جمپ سوٹ اور سر پر سفید کپڑے کی ٹوپی پہنے فیصل شہزاد کو پیش کیا گیا تو خاتون جج مریم گولڈبرگ نے سماعت کی کارروائی شروع کرتے ہوئے مقدمے کا پس منظر و مختصر تفصیلات پڑھ کر سنانی شروع کیں۔

فیصل شہزاد نے مقدمے کی سماعت کے دوران اعتراف کرتے ہوئے جج سے کہا تھا کہ وہ ایک نہیں سو بار اعتراف کرتے ہیں اور اس پر انہیں کسی بھی قسم کا پچھتاوا نہیں ہے۔

جب جج نے کھچا کھچ بھرے کمرہ عدالت میں کہا کہ انہوں نے فیصل شہزاد کو بم نصب کرنے، بے شمار مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھنے کے الزامات میں تا عمر قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس پر فیصل شہزاد نے زور سے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے۔

فیصل شہزاد (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنفیصل شہزاد نے کم سے کم دو ’جہادی‘ ویڈیو پیغامات بنائے تھے

وفاقی عدالت نے فیصل شہزاد کو دس الزامات میں چھ بار تا عمر قید سنائی ہے۔ فیصل شہزاد کے خلاف دس الزامات میں عالمی دہشتگردی سے تعلق، پاکستان میں طلبان کے ہاتھوں دہشتگردی کی تربیت اور امریکہ میں وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنا اور نصب کرنا شامل ہیں۔

اپنے خلاف سزا کا فیصلہ سنتے ہی ملزم فیصل شہزاد نے جج سے کہا کہ ’امریکہ مزید حملوں کے لیے تیار رہے کہ اسلام کی جنگ ابھی شروع ہی ہوئی ہے‘۔

فیصل شہزاد نے کمرہ عدالت میں کہا کہ ’امریکہ کو عنقریب اس جنگ میں شکست ہونی ہی ہے اور مسلمان اپنی جنگ اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں‘۔

جج گولڈبرگ نے ملزم فیصل شہزاد سے کہا کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں اور جیل میں انہیں بہت وقت ملے گا کہ وہ اس پر سوچیں اور پچھتائیں کہ انہوں نے لوگوں کی جانیں کیوں لینا چاہیں جبکہ قرآن ایسا سبق نہیں دیتا‘۔ فصیل شہزاد نے کہا کہ ’قرآن ہمیں اپنے دفاع کے لیے کہتا ہے‘۔

ایک موقع پر جج نے ان سے کہا کہ آپ نے امریکیوں کو وسیع پیمانے پر ہلاک کرنے کی کوشش کی جبکہ آپ نے امریکی شہری ہوتے وقت امریکہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا تو انہوں نے کہا کہ ’حلف اٹھاتے وقت میرا مطلب حلف اٹھانا نہیں تھا‘۔ جس پر جج نے فیصل شہزاد سے کہا کہ ’اس کا مطلب آپ نے جھوٹا حلف اٹھایا تھا‘۔

پشاور کے قریب ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے امریکی نیچرلائيزڈ شہری فیصل شہزاد پاکستانی فضائیہ کے سابق وائس ایئر مارشل کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں کالج مکمل کیا، وال سٹریٹ نیویارک میں ملازمت کی اور وہ نیویارک کی پڑوسی ریاست کنیکٹیکٹ کے مڈل کلاس لیکن امریکی حساب سے متمول مضافات میں رہتے تھے۔

مقامی امریکی میڈیا کے مطابق ان کی بیوی حنا اپنے دو بچوں سمیت روپوش ہوگئی ہیں۔