برطانیہ: سائبر حملے ایک بڑا خطرہ

فائل فوٹو، سائبر حملہ
،تصویر کا کیپشنہمیں بین الاقوامی دہشت گردوں سے بڑے سخت خطرے کا سامنا ہے۔۔۔ہم سب کو لازمی چوکنا رہنا ہو گا: تھریسا مئی

برطانوی سیکرٹری داخلہ ٹریسا مے نے کہا ہے کہ برطانیہ کے بڑے خطرات میں سے ایک کمپیوٹر نیٹ ورکس پر سائبر حملے ہیں۔

ٹریسا مے نےیہ بات سکیورٹی کی نئی قومی حکمت جاری ہونے سے پہلے کہی ہے۔

سیکرٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ ’ملک میں سائبر دہشت گردی اور نیا اور بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔‘

پیر کو بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان کو اہمیت کے لحاظ سے ترتیب وار بیان کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن یہ بات علم میں لائی جا سکتی ہے کہ روایتی خطرات کے برعکس ان کی ’ نوعیت مختلف‘ ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ’ ہمیں بین الاقوامی دہشت گردوں سے بڑے سخت خطرے کا سامنا ہے۔۔۔ہم سب کو لازمی چوکنا رہنا ہو گا۔

برطانوی وزیر اعظم کی قائم کردہ نیشنل سکیورٹی کونسل ملک کو درپش سولہ بڑے خطرات کی نشاندہی کرنے کے بعد قومی سلامتی کے متعلق حکمت عملی میں بہتری لائے گی۔

ان میں سے سب سے بڑے خطرے کو ٹیئر ون کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں کا شامل ہونا، برطانیہ کے سائبر سپیس پر جارحانہ حملے، ایک بڑا حادثہ یا فلو کی وبا جیسی قدرتی مشکلات یا ریاستوں کے درمیان ایک بین الاقوامی فوجی تنازعہ جو بعد میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی زد میں لے سکتا ہے۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا ہے کہ وزراء سائبر سکیورٹی کی مد میں پچاس کروڑ پاؤنڈ کی رقم کی اعلان کر سکتے ہیں۔ اس رقم سے دفاعی اثاثوں اور اہم ڈھانچے کی حفاظت کی جائے گی۔